Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اقبال سہیل

1884 - 1955 | اعظم گڑھ, بھارت

اعظم گڑھ کے ممتاز شاعر، وکیل، سیاست دان اور ماہرِ تقریر تھے، انہوں نے مولانا حمیدالدین فراہی، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی جیسے اکابر سے علمی استفادہ کیا، 1937ء میں اتر پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قومی یکجہتی کے حامی رہے، ان کی شاعری میں قومی شعور، فکری گہرائی اور کلاسیکی لطافت نمایاں ہے۔

اعظم گڑھ کے ممتاز شاعر، وکیل، سیاست دان اور ماہرِ تقریر تھے، انہوں نے مولانا حمیدالدین فراہی، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی جیسے اکابر سے علمی استفادہ کیا، 1937ء میں اتر پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قومی یکجہتی کے حامی رہے، ان کی شاعری میں قومی شعور، فکری گہرائی اور کلاسیکی لطافت نمایاں ہے۔

اقبال سہیل کا تعارف

تخلص : 'سہیل'

اصلی نام : اقبال احمد خان

پیدائش : 19 Dec 1884 | اعظم گڑھ, اتر پردیش

وفات : 07 Nov 1955 | اتر پردیش, بھارت

اقبال احمد خاں 11 ربیع الثانی 1303ھ مطابق 1884ء میں اعظم گڑھ کے موضع بدھریہ میں پیدا ہوئے، ان کا آبائی تعلق جونپور کے گاؤں لیڈرہی سے تھا، انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے عہد کے ممتاز عالم مولانا محمد شفیع خاں کی نگرانی میں حاصل کی، جو بعد میں مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر کی بنیاد رکھی، یہی مولانا محمد شفیع معروف نقاد خلیل الرحمٰن اعظمی کے والد بھی تھے، اس علمی ماحول نے اقبال سہیل کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، علمی تشنگی نے انہیں نوجوانی ہی میں اعلیٰ دینی و ادبی تعلیم کی جانب متوجہ کیا، 1907ء اور 1908ء کے دوران انہوں نے عربی، فارسی اور اسلامی علوم کی تحصیل کے لیے مولانا حمیدالدین فراہی کی صحبت اختیار کی جو اس زمانے میں علی گڑھ کے ایم۔ اے۔ او کالج میں عربی کے استاد تھے، اس قیام کے دوران انہیں برصغیر کے ممتاز اہلِ علم و ادب حسرت موہانی، الطاف حسین حالی اور مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی جیسے اکابر سے استفادے کا موقع ملا، ان بزرگوں کی صحبت نے ان کے ذوقِ ادب کو جلا بخشی اور ان کی فکری دنیا کو وسعت عطا کی، 1913ء میں انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیابی سے مکمل کیا اور 1914ء میں بنارس کے کوئینز کالج سے سندِ فراغت حاصل کی، زمانۂ طالب علمی ہی میں ان کی شعری صلاحیتیں اور تقریر نویسی کا ملکہ زبان زدِ خاص و عام ہوچکا تھا، علی گڑھ میں قیام کے دوران ان کی دوستی صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور معروف ادیب پروفیسر رشید احمد صدیقی سے ہوئی جو عمر بھر قائم رہی، ڈاکٹر ذاکر حسین کی متعدد تقاریر اقبال سہیل کے قلم کا نتیجہ تھیں، خود ڈاکٹر ذاکر حسین نے ان کے شعری مجموعے ’’تابشِ سہیل‘‘ کے دیباچے میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، 1916ء میں انہوں نے ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی اور 1918ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل۔ ایل۔ بی. مکمل کیا، قانون کی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اعظم گڑھ واپس آئے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے، اسی زمانے میں انہیں شبلی نعمانی کی قربت حاصل ہوئی، وہ شبلی کے نہایت قدر دان اور عقیدت مند تھے اور دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے باقاعدہ آنے جانے والوں میں شمار ہوتے تھے، شبلی کی علمی بصیرت اور تحقیقی منہج نے ان کی فکری شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اقبال سہیل کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی سیاسی بصیرت بھی ہے، وہ بھارت کی قومی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے، 1937ء میں حکومتِ ہند ایکٹ 1935ء کے تحت منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس انتخاب میں انہوں نے مسلم لیگ کے امیدوار سید علی زہیر کو شکست دی، وہ تقسیمِ ہند کے سخت مخالف تھے اور دو قومی نظریے کو ہندوستانی قومیت اور مشترکہ تہذیب کے لیے نقصان دہ تصور کرتے تھے، ان کی سیاسی فکر قومی یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور متحدہ ہندوستان کے تصور پر استوار تھی، تعلیم کے میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، وہ اعظم گڑھ مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کی عاملہ کمیٹی کے رکن تھے جو شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کی نگرانی کرتی ہے، انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے تعلیمی فروغ اور نسلِ نو کی فکری تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا، شاعری اقبال سہیل کی شخصیت کا سب سے تابناک پہلو ہے، ان کا شمار اپنے عہد کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے، ان کے اشعار میں قومی درد، انسانی ہمدردی، تہذیبی شعور، رومانوی لطافت اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج ملتا ہے، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت کی شیرینی اور جدید احساس کی تازگی یکساں طور پر موجود ہے، 7 نومبر 1955ء کو یہ درخشاں ستارہ غروب ہوگیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے