ارشاد جعفری کا تعارف
ارشاد جعفری 1918ء میں بریلی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے انہیں جامعہ نعیمیہ، مرادآباد میں داخل کیا گیا، جہاں انہوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ طب کی تعلیم بھی حاصل کی، تعلیم کی تکمیل کے بعد انہیں دستارِ فضیلت اور سندِ طب عطا ہوئی، جس کے بعد انہوں نے طبی پیشہ اختیار کیا، تاہم ان کی زندگی کا بڑا حصہ تبلیغِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی خدمت میں صرف ہوا، ارشاد جعفری خانقاہ سجادیہ، شیش گڑھ کے سجادہ نشیں بھی تھے، ان کی طبیعت میں صوفیانہ مزاج، انکسار اور روحانی وابستگی نمایاں تھی، وہ ظاہری علوم کے ساتھ باطنی کیفیات کے بھی امین تھے، جس کا عکس ان کی شاعری میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے، شاعری انہیں ورثے میں ملی تھی، ان کے والد سجاد حسین جعفری بھی صاحبِ ذوق شاعر تھے، چنانچہ ارشاد جعفری نے ابتدائی شعری تربیت اپنے والد ہی سے حاصل کی، انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کے کلام میں صوفیانہ فکر، قلبی واردات اور انسانی جذبات کی ترجمانی خاص طور پر نمایاں ہے، ان کے شعری مجموعوں میں ’’جذبۂ دل‘‘، ’’زخمِ جگر‘‘ اور ’’فانوسِ خیال‘‘ شامل ہیں، زندگی کے آخری ایام میں وہ مرضِ استسقا میں مبتلا ہوگئے، بالآخر 23 ستمبر 1961ء کی شب بارہ بجے یہ صاحبِ دل شاعر اور صوفی منش انسان اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔