ایثار علی ذائقؔ کا تعارف
مولوی ایچار علی میاں ولد دلدار علی مذاق، بدایوں کے محلہ قاضی ٹولہ کے معزز صدیقی النسب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 11 شوال 1209ھ مطابق 12 دسمبر 1872ء کو ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے مفتی حفیظ الرحمٰن گلشن آبادی اور مولوی سید یونس علی سے حاصل کی، جبکہ درسیات کی تکمیل مولوی یداللہ سنبھلی کے زیرِ نگرانی ہوئی، اس طرح آپ نے علومِ دینیہ میں ایک مضبوط اور مستند بنیاد قائم کی، تعلیم سے فراغت کے بعد مارچ 1887ء میں آپ نے سلسلۂ طریقت میں قدم رکھا اور سلسلۂ چشتیہ نظامیہ سے وابستہ ہوگئے، آپ ذکر و شغل کے تمام معمولات نہایت پابندی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرتے تھے، جس کے باعث آپ کی روحانی زندگی میں ایک خاص درجۂ استقامت اور وقار پیدا ہوا، زہد و ورع، تقویٰ اور خلوت نشینی آپ کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے اور آپ نے زیادہ تر وقت گوشۂ تنہائی میں عبادت و ریاضت میں گزارا، مولوی میاں کو تصنیف و تالیف سے بھی گہرا شغف تھا، آپ نے مختلف موضوعات پر متعدد علمی و ادبی تصانیف رقم کیں مگر افسوس کہ ایک حادثۂ آتش زدگی کے باعث آپ کے بیشتر مسودات ضائع ہو گئے، جس سے علمی دنیا ایک قیمتی سرمایہ سے محروم ہوگئی، اس کے باوجود آپ کی چند تصانیف یادگار کے طور پر باقی رہیں، جن میں "میلاد سیدالانس و الجان"، "میلاد دغوثیہ"، "رسالۂ علمِ طبیعات"، "حاشیہ شرحِ وقایہ" اور کلیاتِ شاعری (اردو، فارسی اور ہندی) شامل ہیں، آپ کی کلیات مختلف زبانوں کے کلام پر مشتمل ہے جو آپ کے وسیع ادبی ذوق اور لسانی مہارت کا مظہر ہے، 14 شعبان 1379ھ مطابق 23 فروری 1960ء کو آپ کا وصال ہوا، آپ نے ایک سادہ، متقی اور درویشانہ زندگی گزاری اور اپنے پیچھے خلفا و مریدین کی ایک بڑی جماعت چھوڑی جو آج بھی آپ کی روحانی فیوض و برکات کی امین ہے۔