عشق علی شاہ کا تعارف
اصل نام عشق علی سعداللہ تھا، جبکہ شاعری میں شاہ تخلص اختیار کرتے تھے، ان کی شخصیت تصوف، زہد و تقویٰ اور روحانی واردات کا ایک دل آویز مرقع تھی، 1715ء میں مغربی چمپارن کے تاریخی شہر بتیا میں پیدا ہوئے، ابتدائی عمر ہی سے ان کی طبیعت روحانیت، عبادت اور تزکیۂ نفس کی طرف مائل تھی، دنیاوی علائق سے بے رغبتی اور باطنی حقائق کے شوق نے انہیں اہلِ تصوف کی صحبت اختیار کرنے پر آمادہ کیا، روحانی تربیت کے لیے انہوں نے حضرت دیوان شاہ ارزاں کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، مرشد کی نگرانی اور فیضانِ صحبت میں انہوں نے تصوف و سلوک کی منازل طے کیں اور طریقت و معرفت کے اسرار و رموز سے آشنائی حاصل کی، ان کی زندگی کا بڑا حصہ مجاہدۂ نفس، ذکر و فکر، عبادت و ریاضت اور اصلاحِ باطن میں گزرا، مرشدِ کامل کی تربیت نے ان کی شخصیت کو روحانی استحکام اور عرفانی بصیرت عطا کی، جس کے باعث وہ اپنے علاقے میں ایک صاحبِ حال درویش اور اہلِ دل بزرگ کی حیثیت سے معروف ہوئے، آپ کی خانقاہ اہلِ نیاز و عقیدت کا مرکز تھی، ان کی سادہ زندگی، بلند اخلاق اور روحانی فیضان سے بے شمار افراد مستفید ہوئے، 1800ء میں اس مردِ خدا نے داعیِ اجل کو لبیک کہا، وفات کے بعد انہیں بتیا کی بڑی تکیہ میں سپردِ خاک کیا گیا، ان کا مزار آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے مرکزِ احترام ہے اور یہ مقام عوام میں ’’سعداللہ شاہ کا تکیہ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔