اشتیاق عالم ضیا شہبازی کا تعارف
مولانا شاہ محمد اشتیاق عالم ضیا شہبازی برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، ادیب، خطیب، شاعر اور خانقاہ شہبازیہ، بھاگل پور کے سجادہ نشیں تھے جنہوں نے علم و عرفان، شریعت و طریقت اور ادب و تصوف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، آپ کی ولادت 1952ء میں ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے میں ہوئی جہاں دینی علوم، تصوف اور ادب کی درخشاں روایت نسل در نسل قائم تھی، آپ اپنی علمی بصیرت، روحانی تربیت اور اصلاحی خدمات کے باعث عوام و خواص میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، آپ کی شخصیت میں درویشانہ سادگی، عالمانہ وقار، صوفیانہ فکر اور ادیبانہ لطافت کا حسین امتزاج نمایاں تھا، تصوف پر آپ کی معروف تصنیف "کائناتِ تصوف" علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے، جبکہ "سبز حروف کے شجر"، "برگِ ثنا حرف حرف" اور "جلوۂ گل لفظ لفظ - نکہتِ فکر" جیسے نعتیہ مجموعے آپ کی شعری عظمت کے روشن مظاہر ہیں، اردو کے ساتھ فارسی زبان و ادب پر بھی آپ کو گہری دسترس حاصل تھی اور آپ نے دونوں زبانوں میں قابلِ قدر ادبی سرمایہ چھوڑا، مئی 2011ء میں آپ کا وصال ہوا، تاہم آپ کی علمی خدمات، روحانی تعلیمات اور ادبی ورثہ آج بھی طالبانِ علم و معرفت کے لیے سرچشمۂ فیض ہے۔