ایشور داس کا تعارف
ایشورداس بھارتی بھکتی روایت کے ممتاز سنت شاعر، روحانی مفکر اور کرشن بھگتی کے عظیم علمبردار تھے، آپ کی ولادت سولہویں صدی میں باڑمیر کے گاؤں بھدریش میں ایک ویشنو خاندان میں ہوئی، ابتدائی عمر ہی میں والدین کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا آشانند برہٹھ نے کی، جن سے آپ نے مذہبی علوم، روحانی روایات اور ادبی ذوق کی تعلیم حاصل کی، آپ کی پوری زندگی عشقِ الٰہی، بھگتی، عبادت اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رہی، آپ نے ڈنگل زبان میں ایسی شاعری تخلیق کی جس میں کرشن سے والہانہ محبت، انسانی ہمدردی، روحانی واردات اور بلند اخلاقی تعلیمات نہایت دل نشین انداز میں جلوہ گر ہیں، ہری رس، دیویان اور ہالا جھالا را کندلیا سمیت آپ کی متعدد تصانیف آج بھی بھکتی ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں، گجرات اور کاٹھیاواڑ میں آپ کی روحانی شخصیت نے عوام، اہلِ علم اور اہلِ اقتدار سب کو متاثر کیا، جبکہ آپ کے مریدین انہیں غیر معمولی روحانی مقام کی بنا پر عقیدت و احترام سے یاد کرتے تھے، عمر کے آخری حصے میں آپ اپنے آبائی وطن واپس آئے اور دریائے لونی کے کنارے عبادت، ریاضت اور ذکر و فکر میں زندگی بسر کی، 1618ء میں آپ نے جل سمادھی اختیار کی، آپ کی شخصیت بھارتی روحانی روایت، محبتِ الٰہی اور بھکتی ادب کی ایک درخشاں علامت کے طور پر آج بھی زندہ ہے۔