استخارالدین قادری کا تعارف
مولانا محمد بشیرالدین قادری شاہجہاں پوری کے خلفِ اکبر سید محمد استخارالدین قادری یعقوبؔ ممتاز اور باوقار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، آپ اپنے والدِ گرامی کی علمی و روحانی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ ادب و شعر کے میدان میں بھی ایک معتبر نام کی حیثیت رکھتے ہیں، آپ نے طویل عرصہ تک بجنور انٹر کالج میں بحیثیت انگلش لکچرار درس و تدریس کے فرائض انجام دیے اور اپنی علمی قابلیت، خوش اخلاقی اور شائستہ طرزِ گفتگو سے طلبہ و اہلِ علم کے درمیان خصوصی مقام حاصل کیا، تدریسی خدمات کے بعد آپ پوری یکسوئی کے ساتھ علمی، ادبی اور روحانی مشاغل میں مصروف ہیں، آپ کو اپنے والدِ ماجد سے خلافت و اجازت بھی حاصل ہے، جس کے باعث آپ کی شخصیت میں علم و عرفان اور روحانیت و سنجیدگی کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے، یعقوبؔ کی شخصیت ہمہ جہت اوصاف کی حامل ہے، وسیع مطالعہ، عمیق مشاہدہ، تنقیدی بصیرت، ترجمہ نگاری، بحور و اوزان پر غیر معمولی دسترس اور شعری لطافت آپ کی وہ فطری صلاحیتیں ہیں جنہوں نے آپ کو اہلِ ادب کے درمیان منفرد مقام عطا کیا، معروف ادیب و نقاد پروفیسر خالد حسن خاں نے آپ کے شعری مجموعہ ’’قصرِ جاں‘‘ میں بجا طور پر تحریر کیا ہے کہ یعقوب کی علمیت، ادبیت اور شعریت کی گونج صرف شاہجہاں پور، بدایوں، بجنور، میرٹھ اور دہلی تک محدود نہیں بلکہ اردو ادب کے دور افتادہ حلقوں تک محسوس کی گئی ہے۔ آپ کی طبیعت میں متانت، قناعت، سنجیدگی، بردباری، محنت، ریاضت اور عبادت اس درجہ رچی بسی ہوئی ہے کہ آپ کی تحریروں میں کبھی سطحیت یا جذباتی تلخی کا شائبہ تک نہیں ملتا، آپ کی فکر میں عقلیت، شائستگی اور شعری لطافت نمایاں ہے، یہی اوصاف آپ کے کلام کو تاثیر اور دل آویزی عطا کرتے ہیں، محافلِ ادب میں آپ کی خوش کلامی، شستہ لہجہ اور مترنم شعر خوانی سامعین کو بے حد متاثر کرتی ہے، یعقوب کے متعدد شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں جن میں دھڑکنیں (1965ء) سازِ دل، مجموعۂ قطعات و رباعیات (1972ء)، لمحہ لمحہ آگہی اردو اکیڈمی لکھنؤ سے انعام یافتہ (2010ء)، قصرِ جاں (2015ء) خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، ان تصانیف میں عشقِ رسول، انسانی اقدار، روحانی واردات، فکری بالیدگی اور تہذیبی شعور نہایت دلنشیں پیرایے میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ جہاں یعقوب نے غزل، رباعی، قطعہ اور دیگر اصنافِ سخن میں کامیاب طبع آزمائی کی ہے، وہیں نعت گوئی میں بھی آپ کو نمایاں مقام حاصل ہے، آپ کے نعتیہ کلام میں محبتِ رسول کی وارفتگی، عقیدت کی پاکیزگی اور زبان و بیان کی لطافت بدرجۂ اتم موجود ہے۔