Font by Mehr Nastaliq Web
Jaami Badayuni's Photo'

جامی بدایونی

1880 - 1965 | بدایوں, بھارت

فقر و تصوف کو نعتیہ شاعری کی روح بنانے والے صاحبِ سوز شاعر۔

فقر و تصوف کو نعتیہ شاعری کی روح بنانے والے صاحبِ سوز شاعر۔

جامی بدایونی کا تعارف

تخلص : 'جامی'

اصلی نام : عبدالجامع

پیدائش : 01 Mar 1880 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 01 Apr 1965 | پاکستان

رشتہ داروں : رونق بدایونی (مرشد)

محمد عبدالجامع ولد عبدالقدیر، محلہ سوتھا، بدایوں کے خاندانِ متولیان سے تعلق رکھنے والے ایک متوسط زمیندار گھرانے میں 2 ربیع الثانی 1297ھ مطابق 14 مارچ 1880ء کو پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے فارسی کی تحصیل مولوی ریاض الدین فرشوری سے کی، جبکہ جملہ علومِ دینیہ یعنی درسِ نظامی کی تکمیل مولانا سید یونس علی محدث بدایونی سے حاصل کی، فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے آبائی جائیداد اور زمینداری کو ذریعۂ معاش بنایا اور اسی پر قناعت کرتے ہوئے ایک سادہ اور باوقار زندگی بسر کی، 1960ء میں اہلیہ کے انتقال کے بعد آپ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا، جہاں 22 اپریل 1965ء کو آپ کا وصال ہوا، روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ قادریہ میں حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی اور سلسلۂ چشتیہ میں حضرت شاہ ظہور حسین مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے، شعری میدان میں آپ کو اسی خانوادے کے جید استاد شاعر احسن مارہروی سے تلمذ حاصل تھا، چونکہ آپ کی طبیعت فقر و تصوف سے گہری مناسبت رکھتی تھی، اس لیے آپ نے اپنے جذبات کا اظہار زیادہ تر نعت و منقبت کی صورت میں کیا، اگرچہ آپ کا دیگر اصنافِ سخن پر مشتمل کلام حیات میں شائع نہ ہو سکا، تاہم آپ کے وصال کے بعد آپ کے پسماندگان نے آپ کی دو اہم تصانیف کو زیورِ طبع سے آراستہ کیا، پہلی کتاب ظہورِ قدسی ہے جو ایک ترکیب بند کی صورت میں ولادتِ رسول اکرم کے موضوع پر مشتمل ہے، جبکہ دوسری کتاب زادِ آخرت ایک دیوان ہے، جس میں نظمیں، تضمین، رباعیات، قطعات اور غزلیں شامل ہیں، جامی نے تلامذہ کی ایک کثیر جماعت بھی چھوڑی جن میں دلاور فگار اور غزل گو شاعر رونق بدایونی کے نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے