جدید بارہ بنکوی کا تعارف
جدید بارہ بنکوی 1906ء میں بارہ بنکی کے ایک معزز اور خوش حال زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مہدی علی خاں اپنے علاقے کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے، موروثی آسودگی اور خاندانی وجاہت نے آپ کو زندگی کے ابتدائی مراحل ہی سے فکرِ معاش کی الجھنوں سے محفوظ رکھا، جس کے باعث آپ کو اپنی علمی، ادبی اور ذوقی دلچسپیوں کو پروان چڑھانے کا بھرپور موقع ملا، آپ نے ابتدائی اور متوسط تعلیم گورنمنٹ اسکول، بارہ بنکی میں حاصل کی، بعد ازاں کالون اسکول، محمود آباد اور پھر شیعہ کالج، لکھنؤ میں زیرِ تعلیم رہے، زمانۂ طالب علمی میں آپ کو کھیلوں، خصوصاً ہاکی سے غیر معمولی شغف تھا، آپ نہ صرف ایک اچھے کھلاڑی تھے بلکہ طویل عرصے تک کالج کی ہاکی ٹیم کے کپتان بھی رہے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب آپ لکھنؤ منتقل ہوئے تو خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنی پسند کا پیشہ اختیار کیا اور ایک لانڈری قائم کی، اس کاروبار کو آپ نے مستقل مزاجی اور محنت کے ساتھ چلایا، شعر و ادب سے آپ کی وابستگی ابتدا میں اتفاقی نوعیت کی تھی لیکن ایک روحانی اور معنوی تجربے نے اس ذوق کو ایک نئی سمت عطا کر دی، روایت کے مطابق ایک خواب نے آپ کے اندر پوشیدہ شعری صلاحیتوں کو بیدار کیا اور اسی کے نتیجے میں آپ نے شعر گوئی کی طرف سنجیدہ توجہ دی، جلد ہی آپ کا رجحان مرثیہ نگاری کی طرف ہوا، شعری تربیت کے لیے آپ نے شدید لکھنوی کی شاگردی اختیار کی، اگرچہ آپ کی شہرت کا بنیادی حوالہ مرثیہ نگاری ہے، تاہم آپ نے قطعات، رباعیات اور سلام بھی کہے جن میں آپ کے شعری ذوق کی مختلف جہتیں نمایاں ہوتی ہیں، آپ کے کلام میں عقیدت، سوز و گداز، اخلاقی اقدار اور فنی حسن کا دلکش امتزاج ملتا ہے، آپ کے مراثی کا مجموعہ "اعجازِ ناطق" کے نام سے 1978ء میں شائع ہوا، یہ ممتاز مرثیہ نگار 5 مئی 1984ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا۔