جگیشور پرشاد خلشؔ کا تعارف
منشی جگیشور پرشاد بن منشی کاشی ناتھ موضع ندرہ، گیا کے ان ممتاز اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دور میں اردو زبان و ادب کی ترقی اور اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دیں، وہ ایک کہنہ مشق، صاحبِ علم اور صاحبِ ذوق شاعر تھے، شعر و سخن کے میدان میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، گیا اور اس کے اطراف و اکناف کے بیشتر کائستھ شعرا اپنے کلام کی اصلاح کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے، فنِ شاعری کی باریکیوں پر ان کی گہری نظر تھی، ادبی صحافت کے شعبے میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، ان کی ادارت میں رسالہ ’’تاج" برسوں شائع ہوتا رہا جو اپنے زمانے میں ادبی اور فکری مباحث کا ایک معتبر ترجمان سمجھا جاتا تھا، اس رسالے کے ذریعے انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ادبی شعور کی بیداری میں اہم حصہ لیا، 1916ء میں گیا میں منعقد ہونے والا آل انڈیا مشاعرہ بھی ان ہی کی سعی و کاوش کا نتیجہ تھا، تحقیق و تذکرہ نگاری کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں، انہوں نے 1930ء میں ’’فروغِ بزم‘‘ کے نام سے شعرا کا ایک تذکرہ مرتب کیا جو اپنے عہد کے ادبی حالات، شعری رجحانات اور اہلِ قلم کے تعارف کے حوالے سے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، منشی جگیشور پرشاد محض ادبی شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ سیاسی اور سماجی تحریکوں میں بھی سرگرم حصہ لیتے رہے، ان کی زندگی علم و ادب، قومی شعور اور سماجی خدمت کا حسین امتزاج تھی، بیسویں صدی کے پہلے ربع میں اردو شعر و ادب کی ترقی، ادبی اداروں کی تنظیم اور علمی ماحول کی تشکیل میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔