جہاں گیر یاور کا تعارف
جہاں گیر یاور کی ولادت 25 دسمبر 1948ء کو مغربی بنگال کے علاقے صاحب باغان، راجہ بازار میں ہوئی، ان کے والد عبدالرشید خاں ایک ادب نواز اور علم دوست شخصیت کے مالک تھے، خاندان کی جڑیں صوبۂ سرحد کے تاریخی شہر پشاور سے وابستہ تھیں، جس کے باعث ان کی شخصیت میں تہذیبی تنوع اور ثقافتی وسعت کے عناصر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں، یاور کی ابتدائی تعلیم مدرسہ بیت العلوم میں ہوئی جہاں انہوں نے دینی اور بنیادی عصری علوم سے شغف حاصل کیا، گھر کا علمی و ادبی ماحول، خصوصاً والدِ محترم کی ادب پروری اور شعر و سخن سے وابستگی، ان کی فکری اور تخلیقی تربیت کا اہم ذریعہ بنی، اسی سازگار فضا میں ان کے اندر شعر کہنے کا ذوق بیدار ہوا اور انہوں نے کم عمری ہی میں شاعری کی طرف توجہ دینا شروع کر دی، فنِ شاعری میں پختگی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ممتاز غازی پوری سے مشورۂ سخن لینا شروع کیا، تقریباً دو برس تک ان کی رہنمائی میں اپنے شعری ذوق کو جلا بخشتے رہے، بعد ازاں انہیں غلام احمد فگار عظیم آبادی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، فگار کی فنی تربیت نے ان کے شعری شعور کو مزید نکھارا اور ان کے کلام میں فکری گہرائی اور فنی پختگی پیدا کی، فگار کی علالت کے بعد انہوں نے حلیم صابر سے رجوع کیا اور ان کی سرپرستی میں اپنے شعری سفر کو آگے بڑھایا، جہاں گیر یاور بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، غزل ان کی فطری اظہار گاہ تھی جس میں انہوں نے عشق، حیات، انسانی جذبات، سماجی مشاہدات اور تہذیبی اقدار کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیا، تاہم ان کی شعری صلاحیت صرف غزل تک محدود نہ رہی، انہوں نے حمد، منقبت، قطعات، سہرے اور پابند نظموں میں بھی طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں اپنی فنی مہارت اور فکری سنجیدگی کا ثبوت دیا۔