جلال الدین توفیق کا تعارف
جلال الدین توفیق کا تعلق حیدرآباد کے ایک ایسے معزز اور علمی خانوادے سے تھا جو علم و فضل، روحانی بصیرت اور رشد و ہدایت کے حوالے سے اپنی ایک ممتاز شناخت رکھتا تھا، ان کی ولادت 1281ھ میں اپنے نانا سید احمد کے مکان پر ہوئی، ابتدا ہی سے انہیں ایک ایسے ماحول میں پرورش پانے کا موقع ملا جہاں دینی و علمی اقدار کو خاص اہمیت حاصل تھی، جلال الدین توفیق کی شاعری میں تصوف، معرفت اور روحانی تجربات کی گہری جھلک نمایاں نظر آتی ہے، ان کے کلام میں باطن کی پاکیزگی، حقیقت کی جستجو اور عشقِ الٰہی کے جذبات بڑی خوب صورتی کے ساتھ جلوہ گر ہیں، زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے ترکِ دنیا اختیار کرتے ہوئے گوشہ نشینی کو ترجیح دی اور اپنی توجہ کو عبادت، فکر اور روحانی ریاضت کی جانب مرکوز کر دیا، 16 ذوالحجہ 1339ھ کو یہ صاحبِ دل شاعر اور عارفِ حق اس دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا مشہور دیوان "فانوسِ خیال" ان کی وفات کے بعد پہلی مرتبہ شائع ہوا، اس کے علاوہ فارسی زبان میں بھی ان کا ایک دیوان موجود ہے جو ان کی فارسی دانی اور وسیع ادبی ذوق کا ثبوت فراہم کرتا ہے، جلال الدین توفیق کے فرزند مولانا سید امیرالدین توصیف تھے۔