Font by Mehr Nastaliq Web
Jaleel Manikpuri's Photo'

جلیل مانکپوری

1866 - 1946 | حیدرآباد, بھارت

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔

جلیل مانکپوری کا تعارف

تخلص : 'جلیل'

اصلی نام : جلیل حسن

پیدائش :مانکپور, اتر پردیش

وفات : 01 Jan 1946 | تلنگانہ, بھارت

رشتہ داروں : امتیاز حسین واقف (مرشد), علی احمد جلیلی (بیٹا), امیر مینائی (مرشد)

جلیل مانکپوری جن کا اصل نام حافظ جلیل حسن تھا، اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کے ایک ممتاز شاعر اور صاحبِ فن استاد تھے، وہ 1866ء میں مانک پور کے ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے، بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور دینی ذوق کے حامل تھے، چنانچہ محض بارہ برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا، ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ کا رخ کیا اور وہاں علمائے فرنگی محل سے علومِ متداولہ کی تحصیل کی، عربی اور فارسی زبان و ادب پر انہیں کامل دسترس حاصل تھی، جلیل مانکپوری نے شاعری کا آغاز اپنے آبائی وطن مانک پور ہی سے کیا جہاں ان کے ذوقِ سخن کو جلا ملی، بعد ازاں وہ امیر مینائی کے شاگرد ہوئے اور ان کی تربیت نے جلیل کے شعری جوہر کو نکھار دیا، امیر مینائی اس زمانے میں والیِ رامپور کے استاد تھے، انہوں نے جلیل کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں رام پور طلب کیا، جہاں وہ دفترِ امیراللغات کے سکریٹری مقرر ہوئے، امیر مینائی کے انتقال کے بعد جلیل مانکپوری نے دکن کے دربار میں ان کی جگہ حاصل کی اور وہاں اپنی علمی و ادبی قابلیت کے باعث خاص مقام پیدا کیا، وہ دکن کے حکمرانوں میر محبوب علی خاں اور میر عثمان علی خاں کے استاد رہے، ان کی خدمات کے اعتراف میں دربارِ دکن سے انہیں "فصاحت جنگ" کا خطاب عطا کیا گیا، 1946ء میں حیدرآباد ہی میں ان کا انتقال ہوا، جلیل اپنے عہد کے مسلم الثبوت استادِ سخن شمار ہوتے تھے، انہیں فنِ شاعری کے باریک مسائل، زبان کی نزاکتوں اور اظہار کے لطیف پہلوؤں پر گہری دسترس حاصل تھی، ان کے کلام سے اردو زبان کے محاورات، روزمرہ اور فصاحت و بلاغت کے اصولوں کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے، ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ، زبان کی شائستگی اور فنی پختگی نمایاں ہے۔
جلیل کے شعری سرمائے میں ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص اہمیت رکھتے ہیں، ان کی دیگر تصانیف میں "تذکیر و تانیث"، "گلِ صد برگ"، "معیارِ اردو"، "معراجِ سخن"، "سرتاجِ سخن"، "سوانحِ حضرت امیر مینائی"، "مجموعۂ قصائد" اور "مکاتیبِ جلیل" شامل ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے