جمبیھشور کا تعارف
گرو جمبیھشور جنہیں گرو جمبھو جی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، 1451ء میں پیدا ہوئے اور 1536ء میں وفات پائی، وہ ایک عظیم سادھک، یوگی، سنت اور روحانی پیشوا تھے، جنہوں نے راجستھان کے صحرائی علاقوں میں وشنو بھکتی، عدم تشدد اور فطرت کے تحفظ پر مبنی بشنوئی پنتھ کی بنیاد رکھی، ان کی تعلیمات میں تمام جانداروں سے ہمدردی، ماحول کی حفاظت اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا پیغام نمایاں تھا، گرو جمبیھشور کی ولادت ناگور کے گاؤں پیپاسر میں پنوار راجپوت خاندان میں ہوئی، وہ لوہٹ پنوار اور ہنسا دیوی کے اکلوتے فرزند تھے، بچپن کے ابتدائی سات برس تک وہ خاموش طبع اور گوشہ نشین مزاج کے حامل رہے، زندگی کا ایک طویل عرصہ انہوں نے گلہ بانی میں گزارا، جس نے انہیں فطرت، حیوانات اور انسانی زندگی کے باہمی تعلق کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا، 1485ء میں راجستھان میں پڑنے والے شدید قحط کے بعد گرو جمبیھشور نے 34 برس کی عمر میں سمرا تھل دھورا کے مقام پر بشنوئی پنتھ کی بنیاد رکھی، انہوں نے اپنی تعلیمات کو شعری انداز میں پیش کیا جو شبدوانی کے نام سے مشہور ہوئیں، انہوں نے زندگی کے آخری 51 برس دین، اخلاق، روحانی اصلاح اور فطرت کے تحفظ کا پیغام عام کرنے میں صرف کیے اور 120 اشعار پر مشتمل شبدوانی عطا کی، گرو جمبیھشور نے اپنے پیروکاروں کے لیے 29 اصول مقرر کیے جن میں ذاتی پاکیزگی، عبادت، اخلاقی زندگی، جانداروں سے محبت اور ماحول کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا، انہوں نے جانوروں کے قتل اور درختوں کی کٹائی کو ممنوع قرار دیا، بشنوئی روایت میں کھجری (Prosopis cineraria) کے درخت کو بھی مقدس مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ صحرائی ماحول کے تحفظ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، بشنوئی پنتھ کے 29 اصولوں میں سے بعض اصول حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جانوروں کی نگہداشت سے متعلق ہیں، کچھ بہتر سماجی رویوں کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ دیگر ذاتی صفائی، صحت اور روزمرہ زندگی کی اصلاح سے تعلق رکھتے ہیں، ان تعلیمات نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جو فطرت اور تمام مخلوقات کے احترام کو بنیادی قدر سمجھتا ہے، گرو جمبیھشور کی روحانی میراث آج بھی زندہ ہے، راجستھان کے مقام مکھام، نوکھا تحصیل ضلع بیکانیر میں واقع بشنوئی مندر ان کے پیروکاروں کے نزدیک مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے جہاں ان کی سمادھی قائم ہے، ان کی یاد میں ہریانہ کے شہر حصار میں قائم گرو جمبیشور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔