Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جمیل قادری

- 1924 | بریلی, بھارت

بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔

بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔

جمیل قادری کا تعارف

تخلص : 'جمیل'

اصلی نام : جمیل الرحمٰن خاں

پیدائش :بریلی, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : احمد رضا خاں (مرشد)

جمیل قادری کی پیدائش بریلی میں ہوئی، آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد حاجی عبدالرحمٰن چشتی نظامی سے حاصل کی، جن کی تربیت اور علمی فیضان نے آپ کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، بعد ازاں آپ نے بریلی کی معروف درس گاہ مدرسہ منظرِ اسلام میں باقاعدہ علمی تعلیم حاصل کی اور علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کی، جمیل قادری ایک بلند پایہ نعت گو شاعر، خوش بیان واعظ اور صاحبِ طرز مصنف تھے، آپ کو سلسلۂ طریقت میں بیعت و خلافت کا شرف مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے حاصل ہوا، اس کے علاوہ آپ نے حسن رضا خاں بریلوی کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کیا اور ان سے علمی و ادبی فیض حاصل کیا، مولانا احمد رضا خاں نے آپ کی نعتیہ خدمات اور عشقِ رسول سے سرشار شاعری کے اعتراف میں آپ کو "مداح الحبیب" کے خطاب سے نوازا، آپ نے اپنی شاعری اور نثر کے ذریعے دینی، ادبی اور روحانی اقدار کی ترجمانی کی اور اپنے عہد میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا، آپ کا وصال 1924ء مطابق 1343ھ میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے