جامی چریا کوٹی کا تعارف
جامی چڑیاکوٹی کا شمار ان خوش نصیب اہلِ قلم میں ہوتا ہے جن کی زندگی علم، ادب، دیانت اور مذہبی وابستگی کا حسین امتزاج تھی، آپ یکم جنوری 1916ء کو اعظم گڑھ کے قصبہ چڑیاکوٹ میں شیخ نصیرالدین کے گھر پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم مقامی مکاتب میں حاصل کی جہاں مذہبی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ علمی بنیادیں استوار ہوئیں، بعد ازاں ثانوی تعلیم کے لیے اعظم گڑھ اور جونپور کے تعلیمی مراکز سے استفادہ کیا اور اعلیٰ تعلیم کی غرض سے الہ آباد یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، آپ نے صوبائی جوڈیشیل سروس کے مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اور اپنی قابلیت و محنت سے کامیابی حاصل کی، عدالتی و انتظامی خدمات کے مختلف مناصب پر فائز رہتے ہوئے آپ نے دیانت داری، فرض شناسی اور انصاف پسندی کی روشن مثالیں قائم کیں، بالآخر 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ، اٹاوہ کے منصب سے سبکدوش ہوئے، ریٹائرمنٹ کے بعد الہ آباد میں اپنا مستقل مسکن تعمیر کیا اور بقیہ زندگی یہیں علمی، ادبی اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف رہے، جامی چڑیاکوٹی ایک نہایت مذہبی ماحول میں پروان چڑھے تھے، ان کے مزاج میں دینداری، روحانیت اور عشقِ رسول رچا بسا تھا، انہیں حجِ بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی، شاعری میں ان کا رجحان بالخصوص حمد، نعت، منقبت اور سلام کی طرف تھا، ان کا کلام عقیدت، اخلاص اور والہانہ محبتِ رسول کا آئینہ دار ہے اور ان کی دینی وابستگی کا بھرپور اظہار کرتا ہے، زندگی کے آخری ایام میں وہ گٹھیا کے مرض میں مبتلا رہے، تاہم بیماری کی شدت بھی ان کے حوصلے اور روحانی استقامت کو متزلزل نہ کر سکی، بالآخر 24 مئی 1984ء کو رات تقریباً بارہ بجے یہ مردِ درویش دارِ فانی سے کوچ کر کے عالمِ جاودانی کی طرف روانہ ہوگیا، ان کی تدفین الہ آباد کے حسن منزل قبرستان میں عمل میں آئی جہاں وہ آسودۂ خاک ہیں۔