Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جان محمد قدسی

- 1640 | دہلی, بھارت

طرزِ ہندی کے ممتاز فارسی شاعر تھے جنہوں نے شاہجہاں کے دربار میں قصیدہ نگاری اور "ظفرنامۂ شاہجہاں" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔

طرزِ ہندی کے ممتاز فارسی شاعر تھے جنہوں نے شاہجہاں کے دربار میں قصیدہ نگاری اور "ظفرنامۂ شاہجہاں" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔

جان محمد قدسی کا تعارف

تخلص : 'قدسی'

اصلی نام : جان محمد خان

وفات : ایران

حاجی محمد جان قدسی مشہدی (تقریباً 1582ء – مئی 1646ء) سترہویں صدی کے ممتاز فارسی شاعر تھے، جن کا تعلق صفوی ایران اور مغلیہ ہند دونوں سے رہا، انہیں فارسی شاعری کے “شیوۂ تازہ” یا “طرزِ ہندی” کے اہم شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، قدسی مشہدی کی ولادت مشہد میں ہوئی، ابتدائی زندگی میں وہ ایک معروف تاجر اور سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے، حج کی ادائیگی کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا اور مقامی حکام سے خوشگوار تعلقات کی بنا پر انہیں آستانۂ حضرت امام رضا کا خازن مقرر کیا گیا، تاہم یہ منصب ان کے لیے مالی دشواریوں کا سبب بھی بنا، جس کا ذکر انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے، اسی زمانے میں ان کی شاعرانہ صلاحیتیں نمایاں ہوئیں اور خراسان کے حاکم حسن شاملو نے ان کی شاعری کو سراہا، ان کے کہنے پر قدسی نے اپنا دیوان مرتب کیا اور ہرات لے گئے مگر اسی دوران ان کے نوجوان فرزند محمد باقر کا انتقال ہوگیا، جس نے شاعر کو شدید رنج و الم میں مبتلا کر دیا، طویل خدمات اور ذاتی مصائب کے بعد قدسی مشہدی 1632ء میں مشہد چھوڑ کر ہندوستان آگئے، مغل بادشاہ شاہجہاں کے دربار میں انہیں غیر معمولی عزت و وقار حاصل ہوا، دربار میں کلیم کاشانی کے بعد ان کا شمار بلند پایہ شعرا میں ہوتا تھا، ان کی اہم ذمہ داری شاہجہاں کی سلطنت کی منظوم تاریخ لکھنا تھی جو فردوسی کے شاہنامہ کے طرز پر تصنیف کی گئی، انہوں نے تختِ طاؤس کی تنصیب سمیت کئی شاہی تقریبات کے لیے قصائد اور تاریخی اشعار بھی کہے، روایت ہے کہ شاہجہاں نے ان کی شاعری سے خوش ہو کر انہیں ان کے وزن کے برابر سونا عطا کیا، قدسی دربار کے ہمراہ مختلف سفروں میں شریک رہے، کشمیر سے واپسی کے دوران لاہور میں اسہالِ خونی میں مبتلا ہوئے اور مئی 1646ء میں وفات پاگئے، ان کی وفات پر کلیم کاشانی نے انہیں “سلطانِ شاعری” کہہ کر خراجِ عقیدت پیش کیا، قدسی مشہدی کی سب سے معروف تصنیف “ظفر نامۂ شاہجہاں” ہے جو تقریباً سات ہزار اشعار پر مشتمل ایک مثنوی ہے اور شاہجہاں کے ابتدائی چودہ برسوں کی تاریخ بیان کرتی ہے، انہوں نے مثنوی، قصیدہ، ترکیب بند اور ترجیع بند کی اصناف میں بھی نمایاں کام کیا، ان کے اشعار میں تختِ طاؤس، شاہی عمارتوں جواہرات اور کشمیر کے مناظر کی دلکش تصویریں ملتی ہیں، ان کی منظوم سفر نامۂ کشمیر کو خاص شہرت حاصل ہے، قدسی نے غزل کے مقابلے میں قصیدہ نگاری پر زیادہ توجہ دی، ان کے بیشتر قصائد ائمۂ اہل بیت خصوصاً حضرت امام رضا کی مدح میں ہیں، ان کی شاعری میں ذاتی کرب، ہجرت کا احساس اور فرزند کے غم کی جھلک بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے