Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جوہر بجنوری

1933 | الہ آباد, بھارت

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

جوہر بجنوری کا تعارف

تخلص : 'جوہر'

اصلی نام : چندر پرکاش

پیدائش : 17 Feb 1933 | بجنور, اتر پردیش

جوہر بجنوری جن کا اصل نام چندر پرکاش جوہر تھا، 17 فروری 1923ء کو بجنور کے ایک معزز اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد پنڈت رام چند ایک معزز مدرس تھے اور تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے، گھر کے علمی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے ذوقِ مطالعہ اور ادبی شعور کی آبیاری کی، جس کے اثرات بعد کی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، آپ نے 1942ء میں ہائی اسکول کا امتحان کامیابی کے ساتھ پاس کیا لیکن معاشی تنگی اور گھریلو ذمہ داریوں نے انہیں مزید رسمی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہ دی، تاہم علم و ادب سے ان کا رشتہ منقطع نہ ہوا، انہوں نے ذاتی مطالعے، گہرے مشاہدے اور فکری جستجو کو اپنا شعار بنایا اور اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے خود آموزی کا راستہ اختیار کیا، ملازمت کے سلسلے میں ان کا قیام میرٹھ میں رہا جہاں انہیں اظہار حسین خاں رامپوری کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، ان کی صحبت نے جوہر کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور ان کے فنی شعور کو نکھارا، 1940ء سے انہوں نے باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا اور مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن غزل ان کی محبوب ترین صنف رہی، 1986ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" کے نام سے شائع ہوا، رحمتِ دوعالم کی ذاتِ اقدس سے ان کی عقیدت قلبی نہایت گہری تھی، انہوں نے اپنے نعتیہ کلام میں حضرت رسول اللہ کی آفاقی شخصیت، بلند سیرت، بے مثال کردار اور انسانیت پر احسانات کو نہایت مؤثر، دلنشیں اور پُر خلوص الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے