Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جوہرؔ دیوبندی

1912 | دیوبند, بھارت

ممتاز شاعر، محقق اور تذکرہ نگار تھے، جنہوں نے حمد و نعت سمیت مختلف اصناف میں شاعری کی اور ہندو شعرائے اردو کے تذکروں پر اہم تحقیقی کام کیا۔

ممتاز شاعر، محقق اور تذکرہ نگار تھے، جنہوں نے حمد و نعت سمیت مختلف اصناف میں شاعری کی اور ہندو شعرائے اردو کے تذکروں پر اہم تحقیقی کام کیا۔

جوہرؔ دیوبندی کا تعارف

تخلص : 'جوہر'

اصلی نام : بدھ پرکاش گپتا

پیدائش : 02 Oct 1912 | دیوبند, اتر پردیش

بدھ پرکاش گپتا جوہر دیوبندی کے نام سے ادبی دنیا میں اپنی ایک ممتاز شناخت رکھتے ہیں، ان کی پیدائش 2 اکتوبر 1912ء کو دیوبند میں ہوئی، ان کے والد کا نام کشوری لال تھا، ابھی ان کی عمر گیارہ برس ہی تھی کہ والد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگئے لیکن خاندان کے بزرگوں نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، انہوں نے نہایت ناز و نعم کے ساتھ پرورش  پائی، انہوں نے 1932ء میں ہائی اسکول کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، تاہم باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ اسی مرحلے پر اختتام پذیر ہوگیا، چوں کہ ان کا تعلق ایک خوش حال گھرانے سے تھا، اس لیے انہوں نے تجارت کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا اور اس میں پوری دلجمعی سے منہمک ہوگئے، معاشی مصروفیات کے ساتھ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، 1937ء ان کی ادبی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اسی سال انہیں بابو شمبھو دیال بھٹناگر سرشار سہارن پوری سے شرفِ نیاز حاصل ہوا، ان کی علمی و ادبی رہنمائی میں جوہر دیوبندی نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، سرشار سہارن پوری کی صحبت اور اصلاح نے ان کے کلام میں فکری پختگی اور فنی شعور پیدا کیا، ان کے استاد کے انتقال کے بعد ادبی حلقوں میں انہیں ان کا جانشین قرار دیا گیا، جوہر دیوبندی نے شعر و ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنے وسیع مطالعے، گہرے شعور اور زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت کے باعث ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت کی حیثیت حاصل کی، ان کی مطبوعہ تصانیف میں "جوہرِ سخن" (1965ء)، "نقشِ معتبر" (1977ء)، "موجِ گنگ" (1983ء)، "نغمۂ ناقوس" (1985ء) اور "کلیاتِ جوہر" (1988ء) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان میں جوہرِ سخن، نقشِ معتبر اور کلیاتِ جوہر شعری مجموعے ہیں، جب کہ موجِ گنگ اور نغمۂ ناقوس ان کی تحقیقی و تذکرہ نگارانہ کاوشوں کے اہم نمونے ہیں، "موجِ گنگ" جوہر دیوبندی کی تحقیقی بصیرت اور تذکرہ نگارانہ صلاحیت کا ایک اہم ثبوت ہے، اس میں ابتدائے شاعری سے انیسویں صدی تک کے شعرائے ہنود کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے، انہوں نے اس کتاب میں تقریباً 880 شعرا کو جگہ دی ہے، جب کہ چند انگریز شعرا بھی اس کے علاوہ شامل ہیں، ان کی اس تحقیقی خدمت کے اعتراف میں 1985ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی آنر کمیٹی نے انہیں ڈاکٹر آف لٹریچر (D.Litt.) کی اعزازی سند پیش کی، ان کی دوسری اہم تحقیقی تصنیف "نغمۂ ناقوس" ہے جس میں 1901ء سے 1925ء تک کے 182 شعرائے ہنود کا تذکرہ پیش کیا گیا ہے، نثر میں تحقیق و تنقید کے علاوہ جوہر دیوبندی کو شعری اصناف پر بھی غیر معمولی دسترس حاصل تھی، انہوں نے حمد و نعت، سلام و منقبت، رباعی و قطعہ، غزل و نظم، خمریات و رزمیات، طنز و مزاح اور تضمین جیسی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی، ان کا شعری سرمایہ ان کے وسیع مطالعے، گہرے فکری شعور، متنوع ادبی ذوق اور زبان و بیان پر قدرت کا آئینہ دار ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے