جاوید وششٹھ کا تعارف
جاوید وششٹھ اردو زبان و ادب کے ان ممتاز محققین، نقادوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، تحقیقی ژرف نگاہی اور ادبی ذوق کے ذریعے اردو دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا، ان کا اصل نام شیو پرساد وششٹ تھا، وہ 26 ستمبر 1920ء کو ہریانہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جاوید وششٹ کی ادبی خدمات نہایت متنوع اور ہمہ گیر ہیں، شاعری کے میدان میں ان کا مجموعۂ کلام ’’شعلۂ تشنگی‘‘ ان کے تخلیقی شعور کا آئینہ دار ہے جبکہ ’’ایک تبسم ایک نظر‘‘ ان کے منتخب کلام کا نمائندہ مجموعہ ہے، تحقیق و تدوین کے شعبے میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں، دکنی ادب اور قدیم اردو متون کی بازیافت اور اشاعت میں ان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے، ان کی اہم تصانیف میں ’’سب رس کا قصۂ دل‘‘، ’’قصۂ حسن و دل‘‘، ’’غزالِ رعنا‘‘، ’’روپ رس‘‘، ’’ملا وجہی کے انشائے‘‘، ’’انشائیہ پچیسی‘‘، ’’محمد قلی اور نبی کا صدقہ‘‘ اور ’’دکنی درپن‘‘ شامل ہیں، یکم جنوری 1994ء کو یہ درخشاں ادبی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی۔