Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جوش بدایونی

1908 | بدایوں, بھارت

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے خود آموزی اور شعری ریاضت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے رام بہادر لعل جویا آنولوی سے اصلاحِ سخن لی جبکہ ان کی اہم تصانیف میں "بادۂ تاثرات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" شامل ہیں۔

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے خود آموزی اور شعری ریاضت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے رام بہادر لعل جویا آنولوی سے اصلاحِ سخن لی جبکہ ان کی اہم تصانیف میں "بادۂ تاثرات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" شامل ہیں۔

جوش بدایونی کا تعارف

تخلص : 'جوش'

اصلی نام : رادھا رمن

پیدائش : 19 Jul 1908 | بدایوں, اتر پردیش

رادھا رمن جوش بدایونی اردو شاعری کی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی جد و جہد، علمی شغف اور شعری ریاضت کی بنا پر ادبی دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا، وہ 19 جولائی 1908ء کو بدایوں میں گنگا رام کے گھر پیدا ہوئے، ابھی عمر کی پانچویں بہار ہی آئی تھی کہ تعلیم کا آغاز کر دیا گیا اور ابتدائی ایام ہی سے علم و ادب سے گہری دلچسپی پیدا ہوگئی، 1921ء میں والد کے انتقال نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور رسمی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن حصولِ علم کی لگن سرد نہ پڑی، محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے مطالعے اور خود آموزی کے ذریعے اپنی علمی پیاس بجھانے کا سلسلہ جاری رکھا، 1927ء میں فارسی مضمون کے ساتھ میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، جس کے بعد عملی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے کلکٹریٹ میں ملازمت اختیار کرلی، شاعری کی طرف ان کا باقاعدہ رجحان 1939ء میں پیدا ہوا، ابتدائی کلام انہوں نے معروف شاعر لکشمی نارائن جوہر کو دکھایا، جن کی رہنمائی نے ان کے ذوقِ سخن کو جلا بخشی، بعد ازاں انہیں رام بہادر لعل جویا آنولوی سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی شاعری میں فنی پختگی، فکری گہرائی اور اسلوبی نکھار پیدا ہوا، رادھا رمن کی ادبی خدمات ان کی متعدد تصانیف کے ذریعے سامنے آئیں، ان کی مطبوعات میں "بادۂ تاثرات"، "منظومات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" (مجموعۂ غزلیات) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے