جوش بدایونی کا تعارف
رادھا رمن جوش بدایونی کی پیدائش 19 جولائی 1908ء کو ایک معزز اور تعلیم یافتہ کائستھ خاندان میں ہوئی، ان کے والد گنگا رام محکمۂ پولیس میں سب انسپکٹر کے منصب پر فائز تھے، خوش حال اور علمی ماحول میں پرورش پانے کے باعث انہیں بچپن ہی سے تعلیم و تہذیب کی بہترین روایتیں میسر آئیں، کائستھ خاندانوں کے مروجہ رسم و رواج کے مطابق ان کی تعلیم کا آغاز پانچ برس کی عمر میں ہوا لیکن 1921ء میں والد کے انتقال کے باعث ان کی باقاعدہ تعلیمی زندگی میں ایک ناگہانی تعطل پیدا ہوگیا، تاہم اس حادثۂ زمانہ نے ان کے شوقِ علم کو ماند نہ ہونے دیا بلکہ انہوں نے ذاتی محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے علمی سفر کو جاری رکھا، انہوں نے 1927ء میں فارسی مضمون کے ساتھ میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، اس کے ایک سال بعد کلکٹریٹ، بدایوں میں ملازمت اختیار کرلی، تقریباً اٹھاون برس تک سرکاری خدمات انجام دینے کے بعد وہ 1966ء میں ناظرِ صدر کے منصب سے سبکدوش ہوئے، ادبی میدان میں اُن کی باقاعدہ آمد 1939ء میں ہوئی، جب انہوں نے شاعری کا آغاز کیا، ابتدا میں اپنے کلام کی اصلاح لکشمی نارائن جوہر بدایونی سے لی جن کی رہنمائی نے ان کے شعری ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا، بعد ازاں انہیں رام بہادر لعل جویا آنولوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، اس کے علاوہ انہیں اپنے عہد کے متعدد ممتاز شعرا و ادبا کی صحبتوں سے فیض اٹھانے کا موقع ملا، سیماب اکبرآبادی، جام نوائی، تولا بدایونی، فانی بدایونی، فوق سبزواری، انجم فوق بدایونی اور آفتاب احمد جوہر جیسی بلند پایہ ادبی شخصیات کی قربت نے ان کی فکری بصیرت اور شعری شعور کو مزید وسعت عطا کی، رادھا رمن جوش بدایونی نے مختلف شعری اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا، ان کے شائع شدہ مجموعوں میں "بادۂ تاثرات" (منظومات)، "کیفِ سرمدی" (نعت و مناقب) اور "آتشِ خاموش" (مجموعۂ غزلیات) خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، انہوں نے نعتیہ شاعری بھی کی ہے۔