Font by Mehr Nastaliq Web
Jurm Muhammadabadi's Photo'

جرم محمدآبادی

1903 - 1980 | کولکاتا, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔

جرم محمدآبادی کا تعارف

تخلص : 'جرم'

اصلی نام : ابوالحسن

پیدائش : 01 Mar 1903 | محمد آباد, اتر پردیش

وفات : 01 Jan 1980 | مغربی بنگال, بھارت

رشتہ داروں : احمد حسین بیحس (مرشد), وحشی ہوڑوی (مرشد)

ابوالحسن جرم محمدآبادی اردو ادب کے ان باکمال شعرا و ادبا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فطری صلاحیت، مسلسل محنت اور ادبی انہماک کے ذریعے علمی و ادبی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، آپ 4 فروری 1903ء کو پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام فضل امام تھا، ابتدائی تعلیم گھر ہی میں مذہبی ماحول کے زیرِ اثر حاصل کی، مڈل اسکول تک اردو اور ہندی کی تعلیم پانے کے بعد مولانا سید محمد ہارون زنگی پوری مصنف ’’علم القرآن‘‘ کے دروس میں شریک ہوئے اور ان کی رہنمائی میں عربی و فارسی زبان و ادب پر گہری دسترس حاصل کی، 1920ء میں جب آپ ابھی زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے کہ والد کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا، جس کے نتیجے میں رسمی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا، معاشی ضرورتوں نے آپ کو ملازمت کی تلاش میں کلکتہ جانے پر مجبور کیا، جہاں آپ نے ایسٹرن آپٹیکل کمپنی میں ملازمت اختیار کی، کلکتہ میں قیام کے دوران آپ نے بنگالی اور عربی زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا اور اپنے علمی افق کو مزید وسیع کیا، شاعری کا ذوق آپ میں بچپن ہی سے موجود تھا، محض بارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا، 1918ء میں آپ فاروق احمد سامری کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے، بعد ازاں جب آرزو لکھنوی کلکتہ تشریف لائے تو آپ نے ان سے بھی شرفِ تلمذ حاصل کیا، 1927ء سے آپ اپنا کلام ریاض خیرآبادی کو بھی دکھاتے رہے، جن کی اصلاح و رہنمائی نے آپ کی شاعری کو مزید نکھارا، ابوالحسن جرم نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر تھے بلکہ نثر نگاری میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے، ان کی سرپرستی اور ادارت میں متعدد ادبی جرائد و رسائل شائع ہوئے جن میں ہفتہ وار ’’نظام شعلہ‘‘، ہفتہ وار ’’عزت‘‘، ماہنامہ ’’سوز‘‘ اور ماہنامہ ’’سبدِ گل‘‘ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، ان کے افسانے ’’دس ہزار کا نوٹ‘‘، ’’انجان رشتہ دار‘‘ اور ’’ٹائم پیس‘‘ قارئین میں بے حد مقبول ہوئے اور ان کی نثری صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بنے، ان کی شعری تصانیف میں ’’تیرِ نظر‘‘ (مجموعۂ غزلیات)، ’’شعلۂ رنگیں‘‘ (مجموعۂ غزل و رباعیات)، ’’فردوسِ سخن‘‘ (مجموعۂ قصائد و نعت)، ’’بہارِ غم‘‘ (مجموعۂ نوحہ و سلام) اور ’’رموزِ سخن‘‘ (علمِ عروض پر ایک اہم رسالہ) شامل ہیں، اگرچہ انہوں نے غزل، نعت، رباعی، قصیدہ اور دیگر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم غزل ہی ان کا اصل میدان تھا جس میں ان کی فنی مہارت اور تخلیقی توانائی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی، اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ 15 جنوری 1980ء کو غروب ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے