کیف الہ آبادی کا تعارف
عبدالرب کیف الہ آبادی اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فطری صلاحیت، علمی ریاضت اور ادبی ذوق کے سبب شاعری کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، آپ 1898ء میں کوشامبی کے سید سراواں میں ایک معزز کاشت کار گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مولانا عبدالحق علم و فضل کے حامل اور پیشۂ تدریس سے وابستہ تھے، جنہوں نے اپنے فرزند کی ابتدائی علمی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کیا، کیف کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب سے شروع ہوئی، نو برس کی عمر میں قرآن مجید ختم کرنے کے بعد وہ الہ آباد سے کولارس چلے گئے جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے، مولانا عبدالحق نے خود اپنے بیٹے کو فارسی کی ابتدائی اور کلاسیکی کتابیں ’’آمد نامہ‘‘، ’’گلزارِ دبستاں‘‘ اور ’’گلستاں‘‘ پڑھائیں، جس کے نتیجے میں ان کے اندر علم و ادب کا شوق پروان چڑھا، پندرہ برس کی عمر میں انہوں نے انگریزی تعلیم کا آغاز کیا لیکن معاشی حالات نے جلد ہی انہیں عملی زندگی میں قدم رکھنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے پچیس روپے ماہوار پر مدرس کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی، تعلیمی مصروفیات کے باوجود ان کا حصولِ علم کا سفر جاری رہا، 1921ء میں انہوں نے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپس آ گئے، اس کے بعد 1923ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کرکے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے، وکالت کے ساتھ ساتھ ادب و شاعری سے ان کی وابستگی بھی روز افزوں ہوتی گئی، شعر و سخن کا ذوق انہیں فطرتاً ودیعت ہوا تھا، گوالیار میں قیام کے دوران انہیں اپنے عہد کے نامور شعرا جیسے نوح ناروی، مضطر خیرآبادی، ضیا بدایونی اور تولا بدایونی کی صحبت میسر آئی، اہلِ فن کی ہمت افزائی، علمی مجالس اور ادبی ماحول نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور وہ جلد ہی ممتاز شعرا کی صف میں شمار ہونے لگے، ابتدا میں انہوں نے اپنا کلام دعا بدایونی اور وکیل احمد حافظ غازی پوری کو دکھایا، جبکہ 1964ء سے نوح ناروی سے باقاعدہ اصلاح لینے لگے، شاعری کے ابتدائی دور میں وہ وکیل تخلص اختیار کرتے تھے، تاہم بعد میں کیف تخلص کو مستقل طور پر اپنا لیا، جس سے وہ ادبی دنیا میں معروف ہوئے، ان کا شعری سرمایہ ’’کیفِ سرمدی‘‘ کے نام سے شائع ہوا، اس کے علاوہ ’’انوارِ حقیقت‘‘ اور ’’انوارِ تصوف‘‘ ان کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہیں، آپ نے ایک بھرپور علمی، ادبی اور عملی زندگی گزاری، 25 دسمبر 1983ء بروز اتوار وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سید سراواں میں ان ہی کے تعمیر کردہ مسجد کے احاطے میں عمل میں آئی۔