کیف اعظم گڑھی کا تعارف
کیف اعظم گڑھی 1907ء میں پیدا ہوئے اور 1979ء میں وفات پائی، وہ اردو اور فارسی زبان و ادب پر اچھی دسترس رکھتے تھے، جبکہ عربی سے بھی واقفیت اور علمی شغف رکھتے تھے، شعر و سخن سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور غزلیں، نعتیں اور قصائد کہے، ان کے کلام میں اردو و فارسی ادبی روایت سے گہری وابستگی کے ساتھ مذہبی عقیدت کا رنگ بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے، نعتیہ شاعری ان کے اسی عقیدت مند شعری مزاج کی ترجمان ہے جس میں انہوں نے محبت و احترام کے جذبات کو شعری پیکر عطا کیا۔