Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

کیفی جائسی

1908 - 1992 | راے بریلی, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر تھے، شعر و سخن کا ذوق انہیں اپنے بڑے بھائی حکیم زبیر احمد کی صحبت سے ملا، انہوں نے نعت، منقبت، غزل، رباعی اور قطعہ میں طبع آزمائی کی۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، شعر و سخن کا ذوق انہیں اپنے بڑے بھائی حکیم زبیر احمد کی صحبت سے ملا، انہوں نے نعت، منقبت، غزل، رباعی اور قطعہ میں طبع آزمائی کی۔

کیفی جائسی کا تعارف

تخلص : 'کیفی'

اصلی نام : اعتضاد احمد

پیدائش :راے بریلی, اتر پردیش

وفات : 01 Oct 1992 | اتر پردیش, بھارت

اعتضاد احمد کیفی جائسی اردو شاعری کے ان باوقار ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ شعر و ادب کی خدمت اور ذوقِ سخن کی آبیاری میں صرف کیا، آپ 1908ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول رائے بریلی سے 1926ء میں دسویں جماعت کی سند حاصل کی جو اس زمانے میں ایک قابلِ قدر تعلیمی کامیابی سمجھی جاتی تھی، کیفی کو شعر و سخن سے فطری مناسبت بچپن ہی سے حاصل تھی، ان کے ادبی ذوق کی نشوونما میں ان کے بڑے بھائی حکیم زبیر احمد کا کردار نہایت اہم رہا، جو خود ایک خوش فکر اور صاحبِ ذوق شاعر تھے، کیفی نے انہی کی ادبی محفلوں میں شرکت کرتے ہوئے سخن فہمی اور شعر گوئی کی ابتدائی منزلیں طے کیں، اہلِ قلم کی صحبت اور شعری مجالس کے فیضان نے ان کے اندر پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی اور وہ رفتہ رفتہ ایک سنجیدہ شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے، پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے دیانت داری اور محنت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور 1967ء میں ہیڈ کلرک کے عہدے سے سبک دوش ہوئے، کیفی نے نعت، منقبت، قطعہ، رباعی اور غزل جیسی متعدد اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، اردو ادب کا یہ خاموش خدمت گزار 2 اکتوبر 1992ء کو چوراسی برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے