کیفی ٹونکی کا تعارف
محمد عالمگیر جو ادبی دنیا میں اپنے تخلص کیف کے حوالے سے معروف ہیں، 1865ء میں ٹونک میں پیدا ہوئے، آپ نے ابتدائی عمر ہی میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا، تاہم مختلف حالات کے باعث رسمی تعلیم کو زیادہ آگے نہ بڑھا سکے، اس کے باوجود علم و ادب سے غیر معمولی شغف، علما و فضلا کی صحبت اور مسلسل مطالعے نے انہیں ایسا علمی مقام عطا کیا کہ وہ اپنے عہد کے اہلِ علم میں شمار کیے جانے لگے، شعر و سخن سے آپ کی وابستگی ابتدا ہی سے گہری تھی، فنِ شاعری کی تربیت کے لیے پہلے اسد لکھنوی سے اصلاح لی، بعد ازاں امیر مینائی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے، اس طرح انہیں کلاسیکی شعری روایت کے معتبر سرچشموں سے فیض حاصل ہوا، جس نے ان کے فنی شعور اور شعری صلاحیتوں کو جلا بخشی، کیف کو غزل، قصیدہ اور نعت جیسی اصنافِ سخن سے خصوصی دلچسپی تھی لیکن نعت گوئی میں انہیں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہوا، نعتیہ شاعری کے میدان میں ان کی شہرت اس قدر مستحکم تھی کہ انہیں نعت گو شعرا میں امام کی حیثیت حاسل ہوگئی تھی، ان کی نعتیہ غزلوں کا مجموعہ ’’وسیلۂ شفاعت‘‘ 1906ء میں شائع ہوا، کیف نے اپنی پوری زندگی علم، ادب اور عشقِ رسول کے فروغ میں صرف کی، 1940ء میں جھالاواڑ میں ان کا انتقال ہوا۔