Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

کامل بدایونی

1825 - 1898 | بدایوں, بھارت

بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔

بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔

کامل بدایونی کا تعارف

تخلص : 'کامل'

اصلی نام : سدیدالدین

پیدائش : 09 May 1825 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 11 Dec 1898 | اتر پردیش, بھارت

محمد سعیدالدین بن مولانا محمد اساس الدین ساکن فرشوری ٹولہ، بدایوں، خاندانِ شیوخِ فرشوری کے ایک ممتاز فرد تھے، آپ کی ولادت 21 رمضان المبارک 1240ھ مطابق 9 مئی 1825ء کو دہلی میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے جدِ امجد حافظ ابوالمؤید خاں سے حاصل کی جہاں فارسی کی تحصیل کی، جبکہ عربی کی تعلیم مولانا کریم اللہ دہلوی سے حاصل کی، بعد ازاں حکیم صادق علی خاں دہلوی سے فنِ طب کی تکمیل کی اور اس میدان میں کمال حاصل کیا، شاعری سے آپ کو طبعی مناسبت تھی، ابتدا میں سعید اور بعد میں کامل تخلص اختیار کیا، فنِ سخن میں آپ نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، آپ نہ صرف قادرالکلام شاعر تھے بلکہ ایک ماہر طبیب بھی تھے اور طب ہی آپ کے ذریعۂ معاش کا وسیلہ رہی، نواب محمد علی خاں والیِ ٹونک کے شفا خانے کے مہتمم کی حیثیت سے بھی آپ نے خدمات انجام دیں، آنولہ میں قیام کے دوران وہاں کے زمیندار اور طبیب حکیم سعیداللہ قادری سے آپ کے گہرے مراسم قائم ہوئے، آپ کی زندگی تقویٰ، عبادت اور زہد و ورع سے عبارت تھی، روحانی اعتبار سے آپ خواجہ اللہ بخش تونسوی کے مرید تھے، 27 رجب 1316ھ مطابق 11 دسمبر 1898ء کو آپ کا انتقال ہوا، آپ کی شعری یادگاروں میں خصوصاً محسن کاکوروی کے مشہور قصیدۂ "مدیحِ خیرالمرسلین" کی بحر میں لکھی ہوئی نعتیہ نظم خاصی شہرت رکھتی ہے جو آپ کے عشقِ رسول اور شعری کمال کی ایک نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے