کرامت علی جونپوری کا تعارف
کرامت علی جونپوری جن کا اصل نام محمد علی جونپوری تھا، انیسویں صدی کے ممتاز عالمِ دین، مصلحِ قوم، صوفی اور مصنف تھے، آپ نے برصغیر خصوصاً بنگال اور آسام کے مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، آپ تحریکِ طیونیہ کے بانی کی حیثیت سے بھی معروف ہیں، آپ کی ولادت 12 جون 1800ء (18 محرم 1215ھ) کو جونپور کے محلہ ملا ٹولہ میں ہوئی، آپ کے والد ابو ابراہیم شیخ محمد امام بخش، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگرد تھے اور جونپور کلکٹری میں سررشتہ دار کے منصب پر فائز رہے، علمی ذوق اور دینی ماحول نے کرامت علی جونپوری کی ابتدائی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، آپ کے خاندان کا تعلق علم و تصوف سے تھا، آپ کے چھوٹے بھائی شاہ رب علی جونپوری سید احمد شہید کے خلیفہ اور صاحبِ طریقت بزرگ تھے، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد سے حاصل کی، جہاں عربی اور فارسی کی بنیاد مضبوط ہوئی، بعد ازاں حدیث، فقہ اور اسلامی علوم کی تعلیم مختلف جید علما سے حاصل کی، آپ نے قدرت اللہ ردولوی، احمداللہ انامی اور احمد علی عباسی چڑیاکوٹی جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا، قرآنِ مجید کی قرات اور تجوید میں بھی مہارت حاصل کی اور ساتوں قراتوں پر عبور پیدا کیا، خطاطی میں حافظ عبدالغنی سے نستعلیق اور طغرا نویسی سیکھی، اس کے علاوہ فنونِ حرب، کشتی اور لاٹھی چلانے کے فنون میں بھی مہارت حاصل کی، جوانی ہی سے آپ کے اندر روحانی رجحان پیدا ہوا، اٹھارہ برس کی عمر میں تصوف کی طرف مائل ہوئے اور والد کی اجازت سے سید احمد شہید رائے بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی، سید احمد شہید نے آپ کو دعوت و اصلاح کی ذمہ داری سونپی اور خلافت عطا فرمائی، اسی نسبت سے آپ نے دینی اصلاح اور عوامی رہنمائی کا عظیم کام انجام دیا، جونپور میں آپ کی اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، آپ نے معاشرے میں پائی جانے والی دینی کمزوریوں اور رسومِ باطلہ کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی، جونپور کی جامع مسجد میں اذان اور نماز کے نظام کو بحال کیا، جہاں عرصے سے دینی سرگرمیاں کمزور ہو چکی تھیں، آپ نے مدارس کے قیام کے ذریعے علمِ دین کے فروغ کا انتظام کیا جن میں مدرسہ حنفیہ اور مدرسۃ القرآن خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، 1822ء میں سید احمد شہید کی ہدایت پر آپ بنگال اور آسام کی طرف روانہ ہوئے، جہاں آپ نے طویل عرصے تک وعظ، تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیا، کلکتہ سے لے کر ڈھاکہ، میمن سنگھ، دیناج پور، فرید پور، نوکھالی، چٹاگانگ، رنگ پور اور آسام کے مختلف علاقوں تک آپ نے دینی تعلیمات پہنچائیں، چوں کہ آپ کو مسلسل سفر کرنا پڑتا تھا، اس لیے آپ نے ایک کشتی کو مدرسے کی شکل دے دی جس میں طلبہ رہتے، تعلیم حاصل کرتے اور آپ خود ان کی کفالت بھی کرتے تھے، آپ کی شخصیت علم، عمل اور دعوت کا حسین امتزاج تھی، آپ نے اپنی زندگی عوام کی دینی اصلاح، تعلیم کے فروغ اور معاشرتی بیداری کے لیے وقف کر دی، 1867ء میں طریقۂ محمدیہ کے اختلاف کے بعد آپ کے پیروکار "طیونیہ" کے نام سے معروف ہوئے، آپ نے نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کے حالات کے پیش نظر مذہبی آزادی کی بنیاد پر تعاون کی رائے پیش کی اور اس سلسلے میں فتاویٰ بھی تحریر کیے، آپ ایک کثیر التصانیف مصنف بھی تھے، آپ نے تقریباً 46 کتابیں لکھیں جن میں عقائد، فقہ، تصوف، اصلاحِ معاشرہ اور دینی موضوعات شامل ہیں، آپ کی مشہور تصانیف میں مفتاح الجنۃ، زینۃ المصلی، زینۃ القاری، شرح ہندی جزری، ترجمہ شمائل ترمذی، ترجمہ مشکوٰة شریف، عقائدِ حقہ، قولِ ثابت، حق الیقین، قوت الایمان، راحتِ روح، تنویر القلوب اور دیگر کتب شامل ہیں، آپ کی متعدد تصانیف بعد میں "ذخیرۂ کرامات" کے نام سے مرتب کی گئیں، آپ کے حلقۂ ارادت میں سیکڑوں خلفا شامل تھے، جنہوں نے بنگال، آسام اور برصغیر کے مختلف علاقوں میں آپ کے مشن کو آگے بڑھایا، آپ کے معروف تلامذہ میں سید امیر علی کا نام بھی قابلِ ذکر ہے، آپ نے 30 مئی 1873ء (2 ربیع الآخر 1290ھ) کو رنگ پور میں وفات پائی، آپ کو منشی پاڑہ جامع مسجد کے قریب دفن کیا گیا، آپ کی یاد میں رنگ پور میں کرامتیہ مسجد و مزار قائم ہے اور بنگال و آسام میں متعدد مدارس آپ کے نام سے منسوب ہیں۔