کرامت علی شہیدیؔ کا تعارف
کرامت علی خاں شہیدی اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، جنہوں نے اپنی آزاد منش طبیعت، وارستہ مزاج اور عشقِ رسول سے سرشار شاعری کے باعث اردو ادب میں منفرد مقام حاصل کیا، آپ کا تعلق موضع ہڑیا پور، اناؤ سے تھا، ابتدائی تعلیم اپنے والد عبدالرسول سے حاصل کی جو خود بھی صاحبِ علم اور قادرالکلام شاعر تھے، والد کی علمی تربیت نے آپ کے شعری ذوق کو جلا بخشی اور آپ نے کم عمری ہی میں شعر و ادب سے گہری وابستگی اختیار کر لی، آپ نے پنجاب، گجرات اور دہلی سمیت مختلف علاقوں میں قیام کیا جہاں اہلِ علم و ادب سے روابط استوار ہوئے، اگرچہ کچھ عرصہ سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے لیکن آزاد طبیعت کے باعث جلد ہی دنیاوی وابستگیوں سے کنارہ کش ہو کر فقیرانہ زندگی اختیار کر لی، نعتیہ شاعری آپ کا نمایاں میدان تھا جس میں آپ نے قصائد، غزلیں اور خمسے تخلیق کیے، آپ کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز، سادگیِ بیان اور شعری لطافت کا دل نشین امتزاج ملتا ہے جس نے انہیں اردو کے اہم نعت گو شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کیا، 1255ھ میں حج کے ارادے سے روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد 4 صفر 1256ھ میں وصال فرمایا، آپ کا ادبی سرمایہ آج بھی نعتیہ شاعری کی ایک قابلِ قدر روایت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔