Font by Mehr Nastaliq Web
Kaukab Sandelvi's Photo'

کوکب سندیلوی

1894 - 1945 | سندیلہ, بھارت

سندیلہ کے شاعر تھے، شعر و ادب کا ذوق انہیں خاندانی ورثے میں ملا، جبکہ روحانی تربیت شاہ فرخ حسن سے حاصل کی، اگرچہ ان کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم وہ اہلِ ادب میں صاحبِ ذوق شاعر کی حیثیت سے معروف رہے۔

سندیلہ کے شاعر تھے، شعر و ادب کا ذوق انہیں خاندانی ورثے میں ملا، جبکہ روحانی تربیت شاہ فرخ حسن سے حاصل کی، اگرچہ ان کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم وہ اہلِ ادب میں صاحبِ ذوق شاعر کی حیثیت سے معروف رہے۔

کوکب سندیلوی کا تعارف

تخلص : 'کوکب'

اصلی نام : محمد احمد

پیدائش :سندیلہ, اتر پردیش

وفات : 05 Nov 1945 | سندیلہ, اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : آرزو لکھنوی (مرشد)

شاہ محمد احمد کوکب 1894ء میں سندیلہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگوں سے حاصل کرنے کے بعد اپنے چچا سید مسعود حسین کے پاس کلکتہ چلے گئے، جہاں کچھ عرصہ تحصیلِ علم کے بعد ندوۃ العلما، لکھنؤ میں داخل ہوئے، آپ بچپن ہی سے دینداری اور روحانیت کی طرف مائل تھے اور سلسلۂ چشتیہ و قادریہ کے بلند پایہ درویش شاہ فرخ حسن کی مریدی نے اس ذوقِ دینی و روحانی کو مزید جلا بخشی، شعر و ادب کا ذوق آپ کو وراثت میں ملا تھا، آپ کے والد نجم الدین خود ایک صاحبِ دیوان شاعر تھے اور نجم تخلص کرتے تھے، وہ امیر مینائی کے شاگرد تھے جبکہ آپ کے چچا قمرالدین بھی صاحبِ ذوق شاعر تھے، اس طرح گھر کا پورا ماحول شعر و ادب کی چاشنی سے معمور تھا، آپ کے والد ایک ادبی انجمن کے صدر تھے، جس کے زیرِ اہتمام وقتاً فوقتاً ادبی محفلیں منعقد ہوتی تھیں، کوکب بھی ان محفلوں میں شریک ہوتے رہے اور اسی ماحول نے انہیں شعر و سخن کی طرف مائل کیا، یہاں تک کہ انہوں نے خود بھی شاعری کا آغاز کر دیا، اگرچہ کوکب کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم ان کا شعری ذوق اہلِ ادب میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، آپ نے 1945ء میں باون برس کی عمر میں وفات پائی۔

موضوعات

Recitation

بولیے