کوثر سندیلوی کا تعارف
کوثر سندیلوی اودھ کے معروف قصبہ سندیلہ کے ایک ممتاز علمی، دینی اور متقی خانوادے میں مولانا وارث علی کے گھر 1868ء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد اپنے عہد کے جلیل القدر عالم تھے، عربی، فارسی، سنسکرت اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، نیز علمِ نجوم، ہیئت اور ریاضی کے ماہر، اعلیٰ درجے کے خوش نویس، انشا پرداز اور ممتاز مترجم کی حیثیت سے بھی شہرت رکھتے تھے، کوثر نے اپنے ماموں شیخ جاوید علی عباسی اور نانا شیخ امیر علی عباسی کاکوروی کی سرپرستی میں تعلیم و تربیت حاصل کی جو فیروز پور جھرکہ میں مقیم تھے، تقریباً اٹھائیس برس کی عمر میں آپ جئے پور تشریف لے گئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے، اس طرح آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ سندیلہ کے بجائے اودھ اور اتر پردیش سے باہر گزرا، جئے پور میں آپ نے ایک مڈل اسکول میں بطور معلم ملازمت اختیار کی اور قریباً اڑتیس برس تک تدریسی خدمات انجام دیں، شعر و سخن کا ذوق آپ کو ورثے میں ملا تھا، محض بارہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور جلد ہی کہنہ مشق، زود گو اور قادر الکلام شاعر کی حیثیت سے شہرت حاصل کر لی، آپ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے، بالخصوص آپ کی نعتیہ شاعری پاکیزہ جذبۂ عشق و عقیدت کا نہایت عمدہ نمونہ ہے، اگرچہ آپ نے وافر مقدار میں کلام کہا لیکن فطری بے نیازی اور درویشانہ مزاج کے باعث اپنے شعری سرمائے کو محفوظ نہ رکھ سکے، 1960ء میں آپ کے بھتیجے نفیس سندیلوی نے آپ کی مختصر سوانحِ حیات اور منتخب کلام کو موجِ کوثر کے نام سے شائع کیا، یکم دسمبر 1957ء کو بخار کی شدت کے باعث گر پڑے اور 5 دسمبر 1957ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، آپ کی تدفین جئے پور کے قبرستان، احاطۂ بھورے شاہ میں عمل میں آئی۔