کاظم خاں شیدا کا تعارف
محمد کاظم علی خاں شیدا افضل خاں کے فرزند اور اشرف خاں کے پوتے تھے، آپ پشتو کے نامور شاعر خوشحال خاں خنک کی اولاد میں شمار ہوتے تھے، جب نواب فیض اللہ خاں نے رام پور کی بنیاد رکھی تو شیدا جو صوبۂ سرحد سے روہیل کھنڈ آ چکے تھے رام پور آ گئے، نواب فیض اللہ خاں نے ان کی غیر معمولی قدر افزائی کرتے ہوئے ایک ہزار روپے ماہوار وظیفہ مقرر کیا، شیدا نہایت متقی، پارسا اور فرشتہ صفت انسان تھے، آپ پشتو اور فارسی، دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، پشتو زبان میں آپ کا دیوان آج بھی رضا لائبریری میں محفوظ ہے، اس دیوان کے دیباچے میں آپ نے اپنا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے کہ "راقم محمد کاظم شیدا نسباً خنک، مذہباً حنفی اور مشرباً نقشبندی ہے" آپ کو تاریخ گوئی میں بھی غیر معمولی مہارت حاصل تھی، جس کا اظہار آپ کے متعدد اشعار سے ہوتا ہے، غالباً 1194ھ میں آپ کا وصال ہوا۔