خالد ندیم بدایونی کا تعارف
خالد ندیم بدایونی اردو ادب، بالخصوص نعتیہ شاعری کے ان ممتاز اور باوقار شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی ادبی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ کی ولادت 15 جون 1958ء کو بدایوں کے ایک علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی، آپ کے والد عبدالمجید اتر پردیش پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھے، ملازمت کی مصروفیات کے باعث ان کا بیشتر وقت گھر سے باہر گزرتا تھا، چنانچہ خالد ندیم کی پرورش و تربیت ان کے دادا عبدالہادی صدیقی اور پھوپھی شمیم بانو کی شفقت و نگرانی میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مدرسہ قادریہ، بدایوں میں حاصل کی جبکہ انٹرمیڈیٹ اسلامیہ انٹر کالج، بدایوں سے مکمل کیا، بعد ازاں اردو ادب میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی اور محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہو کر ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں ہیڈ ماسٹر کے منصب پر فائز ہوئے، جہاں نہایت خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیتے رہے، ان کے شعری سفر کا آغاز 1974ء میں ہوا، جب دورانِ تعلیم اسلامیہ انٹر کالج میں ان کی ملاقات معروف شاعر شفیع احمد خاں پیام ککرالوی سے ہوئی، اسی ملاقات نے ان کے ذوقِ شعر کو جلا بخشی اور انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، بعد ازاں چند برس تک اسد بدایونی سے بھی اصلاحِ سخن حاصل کی، جس کے نتیجے میں ان کی شاعری میں مزید فنی پختگی، فکری بالیدگی اور اسلوبی نکھار پیدا ہوا، بدایوں کے زرخیز ادبی ماحول میں انہوں نے غزل، نظم، نعت، منقبت اور دیگر اصنافِ سخن میں نہایت کامیاب طبع آزمائی کی اور اپنے عہد کے متعدد نامور شعرا کی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں شرکت کر کے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، انہوں نے "روشن" کے نام سے ایک ماہنامہ ادبی رسالہ بھی جاری کیا جو مسلسل تین برس تک علمی و ادبی خدمات انجام دیتا رہا اور اہلِ قلم و ذوق کے درمیان قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا، ان کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آئیں جن میں محسنِ کونین، انوارِ کربلا اور زادِ آخرت خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، ان تصانیف سے ان کی دینی وابستگی، عشقِ رسول، اہلِ بیتِ اطہار سے عقیدت اور اعلیٰ ادبی ذوق کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، 21 جون 2025ء کو طویل علالت کے بعد وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔