خالد پرویز ملک کا تعارف
خالد پرویز ملک عہدِ حاضر کے ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے وکالت، صحافت، تحقیق اور تصنیف کے میدان میں یکساں خدمات انجام دے کر اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے، آپ کے والد کا نام حاجی عبدالجبار تھا، آپ کی ولادت 8 اگست 1958ء کو شیخو پورہ میں ہوئی جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، 1975ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی کامیابی کے ساتھ پاس کیا، اعلیٰ تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی، لاہور کا رخ کیا جہاں سے 1981ء میں قانون (ایل۔ایل۔بی) کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1982ء میں اسی جامعہ سے تاریخ میں ایم۔اے کی سند سے بھی سرفراز ہوئے، تعلیم کی تکمیل کے بعد 1984ء میں شیخو پورہ کی ڈسٹرکٹ کورٹس سے وکالت کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا، تاہم ان کی علمی و ادبی دلچسپی صرف شعبۂ قانون تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے 1978ء ہی سے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور قلم کو سماجی شعور، تاریخی تحقیق اور ادبی خدمت کا مؤثر وسیلہ بنایا، خالد پرویز کی تصنیفی خدمات بھی نہایت وقیع اور متنوع ہیں، ان کی اہم تصانیف میں مطبعِ کتابی حیاتِ چوہدری عبدالغنی، لائرز ڈائریکٹری، تاریخِ شیخوپورہ، ذکرِ وارث شاہ، رہبر و رہنما اور پنجاب کے عظیم صوفی شعرا شامل ہیں، ان کتابوں سے ان کی تحقیقی بصیرت، تاریخی شعور، ادبی ذوق اور پنجاب کی تہذیبی و صوفیانہ روایت سے گہری وابستگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔