Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خلیفہ گلزار علی

1801 | آگرہ, بھارت

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر تھے، وہ نظیر اکبرآبادی کے فرزند اور شاگرد تھے اور عوامی، اخلاقی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے، اپنے کلام میں اسیر اور شیون کے تخلص استعمال کرتے تھے۔

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر تھے، وہ نظیر اکبرآبادی کے فرزند اور شاگرد تھے اور عوامی، اخلاقی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے، اپنے کلام میں اسیر اور شیون کے تخلص استعمال کرتے تھے۔

خلیفہ گلزار علی کا تعارف

تخلص : 'اسیر'

پیدائش :آگرہ, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : نظیر اکبرآبادی (والد)

خلیفہ گلزار علی جن کی ولادت 1801ء میں آگرہ میں ہوئی، اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر تھے، آپ عظیم عوامی شاعر نظیر اکبرآبادی کے فرزندِ ارجمند اور شاگردِ رشید تھے، شعری ذوق، فکری وسعت اور زبان و بیان کی سادگی آپ کو اپنے والد سے ورثے میں ملی، جسے آپ نے اپنے مخصوص انداز میں مزید فروغ دیا، آپ نے نظیر اکبرآبادی کی عوامی، اخلاقی اور صوفیانہ روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنے کلام کے ذریعے اسے نئی جہت بھی عطا کی، آپ کی شاعری میں زندگی کے حقائق، انسانی جذبات اور روحانی واردات نہایت دل نشیں انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں، آپ اپنے اشعار میں اسیر اور شیون کے تخلص استعمال فرمایا کرتے تھے جو ان کی شعری شناخت کا نمایاں حوالہ ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے