خاطر جے پوری کا تعارف
مولانا عبدالرحیم خاطر جے پوری کا شمار برصغیر کے ان جلیل القدر اہلِ علم و ادب میں ہوتا ہے جنہوں نے مذہبی علوم، تصوف، خوش نویسی اور شاعری، ہر میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے نقوش ثبت کیے، وہ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس نے علم، عرفان اور تہذیب کی قدروں کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا، آپ کا تعلق جے پور کے ایک ممتاز علمی خاندان سے تھا، آپ کو سلسلۂ چشتیہ سے قلبی وابستگی حاصل تھی اور اسی روحانی فیض نے ان کی شاعری کو عشقِ الٰہی، اخلاقی تطہیر اور انسانی اخوت کے مضامین سے مالا مال کر دیا، ادبی و علمی خدمات کے ساتھ ساتھ خاطر جے پوری نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی گراں قدر سرمایہ چھوڑا، ان کی معروف تصنیف "مرآۃ الانساب" علمِ انساب اور خاندانی تاریخ کے موضوع پر ایک اہم اور مستند کاوش سمجھی جاتی ہے، تقسیمِ ہند کے پُرآشوب دور میں لاکھوں اہلِ علم کی طرح خاطر جے پوری کو بھی اپنا وطن چھوڑنا پڑا، انہوں نے جے پور سے ہجرت کرکے کراچی کو اپنا مسکن بنایا، جہاں اپنی زندگی کے آخری ایام تک دینی، علمی اور ادبی خدمات انجام دیتے رہے، 24 جنوری 1954ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا، خاطر جے پوری کے علمی و فکری ورثے کو ان کے فرزند ڈاکٹر عبدالرشید نعمانی نے نہایت وقار کے ساتھ آگے بڑھایا جو اپنے زمانے کے ممتاز محقق، مفسر اور صاحبِ قلم عالم کی حیثیت سے معروف ہوئے۔