Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خاطرالقادری

- 1979 | پونہ, بھارت

پونہ کے صوفی منش شاعر تھے، شاد پونوی کے شاگرد اور حضرت محمود ابوالعلائی کے مرید تھے، تصوف، درویشی اور دینی خدمت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا جبکہ جامع مسجد کے مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم بھی دیتے تھے۔

پونہ کے صوفی منش شاعر تھے، شاد پونوی کے شاگرد اور حضرت محمود ابوالعلائی کے مرید تھے، تصوف، درویشی اور دینی خدمت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا جبکہ جامع مسجد کے مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم بھی دیتے تھے۔

خاطرالقادری کا تعارف

تخلص : 'خاطر'

اصلی نام : لعل خان محمد

پیدائش :پونہ, مہاراشٹرا

وفات : 11 Jan 1979 | مہاراشٹرا, بھارت

خاطرالقادری کا اصل نام لعل محمد خاں تھا، وہ پونہ کے معروف شاعر نثار پونوی کے برادرِ بزرگ تھے اور اپنے عہد کے ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے تھے جن کی شخصیت میں شعر و ادب، تصوف اور درویشی کا دل آویز امتزاج پایا جاتا تھا، جس زمانے میں پونہ کی ادبی فضا استاد و شاگرد کی شعری روایت اور مشاعروں کی علمی و فنی رقابتوں سے معمور تھی، اس وقت شاد پونوی اور سلیم کے تلامذہ کے درمیان شعری معرکے پورے عروج پر تھے، نثار پونوی نے جہاں حضرت سلیم کے حلقۂ تلمذ میں شرفِ تلمذ حاصل کیا، وہیں خاطرالقادری نے اپنے ذوق و مزاج کے مطابق شاد پونوی کے دامنِ فیض سے وابستگی کو ترجیح دی اور انہی کی تربیت میں اپنے شعری جوہر کو نکھارا، خاطرالقادری کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا روحانی ذوق تھا، وہ حضرت محمود قادری ابوالعلائی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور بعد ازاں حضرت عبداللہ جنری نانکیشری سے خرقۂ خلافت حاصل کیا، ان روحانی نسبتوں نے ان کی شخصیت کو نئی جہت عطا کی، یہاں تک کہ وہ منظور علی شاہ کے نام سے بھی معروف ہونے لگے، تصوف کی راہ اختیار کرنے کے بعد انہوں نے دنیاوی جاہ و حشمت سے کنارہ کش ہو کر فقر و قناعت کی زندگی کو اپنا شعار بنا لیا اور درویشی کو اپنے طرزِ حیات کا مستقل عنوان بنا دیا، ان کی زندگی نہایت سادہ، زاہدانہ اور خدمتِ دین سے عبارت تھی، وہ شہر کی جامع مسجد کے نواح میں واقع ایک مدرسے میں بچوں کو قرآن مقدس کی تعلیم دیا کرتے تھے اور اسی خدمت کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے تھے۔

موضوعات

Recitation

بولیے