Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خرد بسوانی

1901 - 1983 | سیتا پور, بھارت

اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔

اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔

خرد بسوانی کا تعارف

تخلص : 'خرد'

اصلی نام : بیج ناتھ پرساد

پیدائش :سیتا پور, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

بیج ناتھ پرشاد خرد بسوانی اردو شاعری کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ، باوقار اور روحانیت سے آراستہ زندگی کے ذریعے ادب اور تصوف، دونوں میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی، آپ معروف شخصیت منشی کنور بہادر کے فرزند اور نامور شاعر کیدار ناتھ جور بسوانی کے برادرِ خورد تھے، علمی و ادبی ذوق رکھنے والے اس خانوادے میں پرورش پانے کے باعث شعر و ادب سے ان کی وابستگی فطری تھی، آپ مئی 1901ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد محکمۂ پولیس میں ملازمت اختیار کی اور پوری ملازمت اسی محکمے سے وابستہ رہے، سرکاری مصروفیات کے باوجود ادب سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا بلکہ شاعری ان کی شخصیت کا مستقل حوالہ بنی رہی، خرد بسوانی نہایت صوفی منش، منکسر المزاج اور روحانی ذوق رکھنے والے بزرگ تھے، انہیں حاجی وارث علی سے گہری عقیدت حاصل تھی، شاعری کا شوق انہیں بچپن ہی سے تھا لیکن اس ذوق کو فنی جلا حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کی شاگردی میں حاصل ہوئی، 1983ء میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے