خضر برنی کا تعارف
خضر برنی اردو ادب کے ان ہمہ جہت ادیبوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی متنوع ادبی کاوشوں کے ذریعے شاعری، صحافت، اشاعت اور دینی ادب کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، آپ کا اصل نام خضر برنی تھا، 15 جولائی 1908ء کو بلند شہر میں ایک علمی و تہذیبی گھرانے میں آنکھ کھولی، کچھ عرصہ پنجاب کی ریاست مالیر کوٹلہ میں زیرِ تعلیم رہے، جہاں علمی بنیادیں مستحکم ہوئیں، بعد ازاں بلند شہر واپس آکر مدرسہ اسلامیہ قاسمیہ میں داخل ہوئے اور معروف عالمِ دین مولانا حشمت علی سے علومِ دینیہ و ادبیات کی تحصیل کی، شاعری کا ذوق انہیں بچپن ہی سے ورثے میں ملا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک پختہ تخلیقی شعور میں ڈھل گیا، انہوں نے اردو شاعری کی تقریباً تمام اہم اصناف بالخصوص غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ میں طبع آزمائی کی، خضر برنی کے نو شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، ان کی اہم تصانیف میں "تصویرِ حیات"، "تصویرِ کائنات"، "گل و سنگ"، "عطرِ گل"، "یہ ہے میرا ہندوستان"، "قوسِ قزح"، "رقصِ لہو"، "گل بوٹے"، "عکسِ جمال" اور "حدیثِ عشق" نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، نثر کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اور "شمعِ ہدایت" اور "بندر کا گھر" جیسی قابلِ ذکر تصانیف یادگار چھوڑیں، ادب کی اشاعت اور فروغ کے سلسلے میں بھی ان کی خدمات نہایت اہم ہیں، انہوں نے تاج پرنٹنگ پریس قائم کیا جس کے ذریعے متعدد علمی و ادبی کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئیں، اسی طرح انہوں نے ماہنامہ "غریب" کا اجرا کیا، علاوہ ازیں انہوں نے ادبی جریدہ "لہریں" کی ادارت بھی کی، خضر برنی نے اپنی پوری زندگی ادب، صحافت اور اشاعت کی خدمت میں بسر کی، یکم مارچ 1989ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔