خوشی محمد ناظر کا تعارف
خوشی محمد ناظر کی ولادت 1872ء میں پنجاب کے ضلع گجرات کے موضع ہریاوالہ میں ایک جٹ خاندان میں ہوئی، ان کا اصل نام چودھری خوشی محمد تھا، ناظر ان کا تخلص تھا جبکہ ان کے والد کا نام چودھری مولاداد خاں تھا، ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ علی گڑھ گئے جہاں 1893ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، علی گڑھ کے علمی و ادبی ماحول نے ان کی شخصیت کو جلا بخشی اور وہ شبلی نعمانی کے ممتاز تلامذہ میں شمار ہونے لگے، شبلی نعمانی نے بھی ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، چنانچہ بعد کے اہلِ قلم نے بھی انہیں شبلی کے نمایاں شاگردوں میں شمار کیا، تعلیم سے فراغت کے بعد وہ ریاستِ جموں و کشمیر کی ملازمت سے وابستہ ہوئے جہاں اپنی قابلیت، دیانت اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث مہاراجہ پرتاب سنگھ کے نہایت معتمد اور محبوب وزیر بن گئے، دربار میں انہیں خصوصی عزت و احترام حاصل تھا، مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی شہرۂ آفاق نظم "جوگی" سے اس قدر متاثر تھے کہ اکثر اسے خود انہی کی زبان سے سنا کرتے تھے، یہی نظم بعد میں اردو شاعری کے شاہکاروں میں شمار کی جانے لگی اور ان کی ادبی شناخت بن گئی، سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ فیصل آباد کے قصبہ چک جھمرہ میں سکونت پذیر ہوگئے جہاں انہوں نے بقیہ زندگی علمی و ادبی مشاغل میں گزاری، وہ علامہ اقبال کے حلقۂ احباب میں بھی شامل تھے، خوشی محمد ناظر بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم ان کی نعتیہ شاعری بھی نہایت دل آویز، پُرسوز اور عقیدت سے لبریز ہے، ان کا شعری سرمایہ نغمۂ فردوس کے نام سے محفوظ ہے جس میں غزل، نعت اور دیگر اصنافِ سخن شامل ہیں، یکم اکتوبر 1944ء کو چک جھمرہ میں ان کا انتقال ہوا۔