Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خسرو کاکوروی

1883 - 1935 | کاکوری, بھارت

حافظ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و مسترشد

حافظ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و مسترشد

خسرو کاکوروی کا تعارف

تخلص : 'خسرو'

اصلی نام : معراج الدین

پیدائش : 01 Jul 1883 | کاکوری, اتر پردیش

وفات : 01 May 1935 | تلنگانہ, بھارت

حافظ معراج الدین خسرو کی ولادت 3 جولائی 1883ء کو اودھ کے معروف قصبہ کاکوری میں ہوئی، ان کے والد خان بہادر منشی تاج الدین جذب کاکوروی اپنے عہد کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت تھے، چنانچہ خسرو کاکوروی کو شعر و ادب کا ذوق ورثے میں ملا، ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی جہاں حضرت شاہ علی انور قلندر کاکوروی کی سرپرستی میں عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر عبور حاصل کیا اور اسی دوران قرآنِ مجید بھی حفظ کیا، تعلیم سے فراغت کے بعد حصولِ معاش کی غرض سے حیدرآباد کا رخ کیا جہاں اپنی قابلیت، دیانت اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث مختلف اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے، ان کی خدمات سے متاثر ہوکر نظامِ حیدرآباد میر عثمان علی خاں نے انہیں "نواب حسین نواز جنگ" کے خطاب سے سرفراز کیا، روحانی اعتبار سے وہ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و بیعت یافتہ تھے جبکہ شاعری میں انہوں نے جلیل مانکپوری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، خسرو کاکوروی ہمہ جہت شاعر تھے، انہوں نے غزل، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ اور دیگر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم سلام اور مرثیے کی صنف میں ان کا سرمایہ خاص طور پر وقیع اور قابلِ ذکر ہے، انہیں موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا جس کے اثرات ان کے کلام کی نغمگی، حسنِ آہنگ اور ترنم میں نمایاں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں، ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ حیدرآباد سے واپس اپنے وطن کاکوری آ گئے اور بقیہ زندگی وہیں بسر کی، بالآخر 23 مئی 1935ء کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا، ان کی تدفین درگاہ حضرت شاہ علی انور قلندر کے احاطے میں ہوئی۔

موضوعات

Recitation

بولیے