Font by Mehr Nastaliq Web
Khwaja Abdul Khaliq Ghajdawani's Photo'

خواجہ عبدالخالق غجدوانی

- 1179 | بخارا, ازبکستان

خواجہ عبدالخالق غجدوانی کے صوفی اقوال

باعتبار

جماعت ترک نہ کرنا۔

تقویٰ کو اپنا شعار بنانا۔

خدا اور رسول کا حق ادا کرنا۔

ملازمت سنت و جماعت کرنا۔

خدا سے ڈرتے رہنا۔

کسی مشائخ کا انکار مت کرنا البتہ جو امر خلاف شرع ہو۔

قرآن خواہ حفظ یا دیکھ کر پڑھنا لازم رکھنا۔

حلال کھانا کہ حلال مفتاح خیر ہے۔

جاہل صوفیوں سے پرہیز کرنا۔

قہقہہ مار کر نہ ہنسنا کہ قہقہہ غفلت سے ہوتا ہے اور دل کو مردہ کردیتا ہے۔

ہوش در دم

ہر سانس کے ساتھ ہوشیاری و بیداری قائم رکھنا کہ سانس غفلت میں نہ نکلے بلکہ خدا کی یاد میں ہو۔

نظر بر قدم

چلتے وقت نگاہ کو قدموں پر رکھنا، اِدھر اُدھر نہ دیکھنا تاکہ دل و دماغ منتشر نہ ہوں۔

سفر در وطن

اپنے اندرونی عیوب و خامیوں سے نکل کر باطنی اصلاح کی طرف سفر کرنا یعنی نفس سے روح کی طرف ارتقا۔

خلوت در انجمن

لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی دل کو خدا کے ساتھ وابستہ رکھنا یعنی ظاہر میں خلق کے ساتھ، باطن میں حق کے ساتھ۔

یاد کرد

ذکرِ الٰہی کو ہمیشہ یاد رکھنا، چاہے زبان سے ہو یا دل سے۔

باز گشت

ذکر کے بعد دل کو اس بات پر لوٹانا کہ سب کچھ خدا ہی کی طرف ہے اور اسی کی بارگاہ میں رجوع ہے۔

نگہداشت

خیالات کی حفاظت کرنا، غیر ضروری اور دنیاوی وساوس کو دل میں جگہ نہ دینا۔

یاد داشت

ہمیشہ یاد رکھنا کہ خدا ہر وقت دیکھ رہا ہے اور بندہ اس کی نگاہ میں ہے۔

سچی بات کہنا، غیر ضروری باتوں سے خاموش رہنا، سوائے ضرورت کلام نہ کرنا۔

ائمۂ سلف کے مذہب پر رہنا۔

موت کو بہت یاد رکھنا۔

دنیا پر مغرور نہ ہونا، اس طرح زندگی بسر کرنا گویا مسافر ہے۔

اپنے احوال کا مراقبہ کرتے رہنا۔

لوگوں سے حسنِ خلق کے ساتھ معاملہ کرنا۔

خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے