خواجہ عبدالخالق غجدوانی کے صوفی اقوال

ہوش در دم
ہر سانس کے ساتھ ہوشیاری و بیداری قائم رکھنا کہ سانس غفلت میں نہ نکلے بلکہ خدا کی یاد میں ہو۔
نظر بر قدم
چلتے وقت نگاہ کو قدموں پر رکھنا، اِدھر اُدھر نہ دیکھنا تاکہ دل و دماغ منتشر نہ ہوں۔
سفر در وطن
اپنے اندرونی عیوب و خامیوں سے نکل کر باطنی اصلاح کی طرف سفر کرنا یعنی نفس سے روح کی طرف ارتقا۔
خلوت در انجمن
لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی دل کو خدا کے ساتھ وابستہ رکھنا یعنی ظاہر میں خلق کے ساتھ، باطن میں حق کے ساتھ۔
یاد کرد
ذکرِ الٰہی کو ہمیشہ یاد رکھنا، چاہے زبان سے ہو یا دل سے۔
باز گشت
ذکر کے بعد دل کو اس بات پر لوٹانا کہ سب کچھ خدا ہی کی طرف ہے اور اسی کی بارگاہ میں رجوع ہے۔
نگہداشت
خیالات کی حفاظت کرنا، غیر ضروری اور دنیاوی وساوس کو دل میں جگہ نہ دینا۔
یاد داشت
ہمیشہ یاد رکھنا کہ خدا ہر وقت دیکھ رہا ہے اور بندہ اس کی نگاہ میں ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere