لچھمی نرائن رائے کا تعارف
تخلص : 'شفیق'
اصلی نام : لچھمی نرائن رائے
پیدائش : 23 Feb 1745 | اورنگ آباد, مہاراشٹرا
رشتہ داروں : میر غلام علی آزاد بلگرامی (مرشد)
لچھمی نرائن کھتری اورنگ آباد کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ان کی پیدائش 23 فروری 1745ء کو ہوئی، ان کے والد رائے منسا رام نے سلطنتِ دکن میں ایک عرصے تک منصبِ صدرالصدور کے پیش کار کی حیثیت سے فرائض انجام دیے، لچھمی نرائن نے شیخ عبدالقادر سے درسی کتب کی تحصیل کی اور علومِ متداولہ میں دست گاہ پیدا کی، شعر و سخن کی وادی میں قدم رکھا تو میر غلام علی آزاد بلگرامی کی شاگردی اختیار کی جن کی صحبت نے ان کے شعری ذوق کو جلا اور فکر کو وسعت عطا کی، ابتدا میں وہ صاحب تخلص کرتے تھے لیکن جب میر محمد مسیح کا شہرۂ سخن عام ہوا تو اپنے استاد کے مشورے سے شفیق تخلص اختیار کر لیا، یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے دیوان میں صاحب اور دوسرے میں شفیق تخلص ملتا ہے، فارسی زبان سے انہیں خاص شغف تھا اور انہوں نے اردو کے مقابلے میں فارسی میں زیادہ کلام یادگار چھوڑا، تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، ان کی معروف تصانیف میں اثرِ آصفی، اثرِ حیدری، تذکرۂ گل اور مرآۃ الہند خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، ان کے سنِ وفات کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے اقوال میں اختلاف پایا جاتا ہے، مالک رام نے ان کی وفات کا سال 1800ء یا 1801ء لکھا ہے، جبکہ جوہر دیوبندی نے اپنے تذکرے میں 1798ء کا سال درج کیا ہے۔