لال شہباز قلندر کا تعارف
وفات : 19 Feb 1274
لعل شہباز قلندر برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، صاحبِ کرامت ولی، عالمِ دین، شاعر، فلسفی اور انسان دوست درویش تھے، آپ کا اصل نام عثمان علی مروندی تھا، آپ 538ھ / 1143ء میں مرند یا میوند (موجودہ آذربائیجان یا افغانستان) میں پیدا ہوئے، آپ کا سلسلۂ نسب تیرہ واسطوں سے حضرت امام جعفر صادق تک پہنچتا ہے، اسی لیے آپ ایک معزز سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لعل شہباز قلندر کی ابتدائی تربیت نہایت دینی اور روحانی ماحول میں ہوئی، آپ کے والد سید کبیر اپنے عہد کے جلیل القدر عالم، متقی اور صاحبِ روحانیت بزرگ تھے، جبکہ والدہ عبادت، زہد اور خوفِ خدا کی پیکر تھیں، اسی پاکیزہ ماحول نے آپ کی شخصیت کو عظمت عطا کی، آپ نے کم عمری ہی میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا اور عربی، فارسی، فقہ، تفسیر، حدیث اور تصوف کے علوم میں مہارت حاصل کی، آپ کو فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا، آپ نے بغداد، کربلا، مشہد، تبریز اور دیگر علمی و روحانی مراکز کا سفر کیا اور اکابر صوفیہ و علما سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی شخصیت میں علم، عشقِ الٰہی، ریاضت، درویشی اور انسان دوستی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا، لعل شہباز قلندر نے ہندوستان خصوصاً سندھ میں اسلام، محبت، اخوت، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کیا، آپ نے سیہون شریف کو اپنی تبلیغ و ارشاد کا مرکز بنایا اور لوگوں کے اخلاق و کردار کی اصلاح فرمائی۔ آپ کی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو نفرت، برائی اور تعصب سے نکال کر محبت، سچائی اور خدا شناسی کی راہ پر لانا تھا، ہندو اور مسلمان دونوں آپ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے، کیونکہ آپ نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور انسان دوستی کا درس دیا، لعل شہباز قلندرؒ سے بے شمار لوگوں نے روحانی فیض حاصل کیا، آپ کے معروف مریدوں اور خلفا میں عبداللہ شاہ ابدال، سکندر بودلو، سید علی سرمست، سید عبدالوہاب، سید میر کلاں، سید نادر علی شاہ، سید صلاح الدین، شاہ گودڑو، پیر نپو اور لعل موسیٰ کے نام نمایاں ہیں، ان بزرگوں نے آگے چل کر آپ کی تعلیمات اور روحانی فیوض کو مختلف علاقوں میں عام کیا، آپ سرخ رنگ کا لباس زیب تن فرماتے تھے، اسی لیے “لعل” کہلائے، روحانی رفعت اور بلند مقام کی وجہ سے “شہباز” اور درویشانہ شان و بے نیازی کے سبب “قلندر” کے لقب سے مشہور ہوئے، آپ کی شخصیت جذب، عشقِ رسول، عبادت، ریاضت اور خدمتِ خلق کی علامت سمجھی جاتی ہے، لعل شہباز قلندر کا وصال 673ھ / 1274ء میں ہوا، آپ کا مزار سندھ کے شہر سیہون میں واقع ہے جو آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کی روحانی عقیدت کا مرکز ہے، ہر سال آپ کا عرس نہایت شان و شوکت اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے، آپ برصغیر کی صوفی روایت، روحانی عظمت، رواداری اور انسان دوستی کی ایک روشن علامت ہیں۔