معزالدین قادری کا تعارف
مولانا معزالدین قادری خانوادۂ قادریہ بشیریہ، شاہ جہاں پور کے ممتاز عالم، صاحبِ سلوک بزرگ اور خانقاہ قادریہ بشیریہ کے پہلے سجادہ نشیں تھے، آپ نے پوری زندگی علم و عرفان، رشد و ہدایت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی، آپ کی شخصیت علم و عمل، شریعت و طریقت، اخلاق و انکسار اور محبت کا حسین امتزاج تھی، آپ نے ایف۔ آر۔ انٹر کالج، چندوسی میں طویل عرصہ بطور لیکچرار خدمات انجام دیں اور ۳۰ جون ۲۰۰۸ء کو سبک دوش ہوئے، تدریس کے ساتھ آپ نے اپنے کردار اور حسنِ اخلاق سے بے شمار طلبہ کی علمی و عملی تربیت کی، روحانی اعتبار سے آپ ایک کامل مرشد تھے، آپ کی مجلس ذکر و فکر، علم و حکمت اور اخلاص و محبت کا مرکز ہوتی تھی، جبکہ آپ کی متواضع، منکسرالمزاج اور باوقار شخصیت ہر ملنے والے پر گہرا اثر چھوڑتی تھی، مولانا حضور احمد قادری نے آپ کو ایک باوقار، بااخلاق اور نہایت منکسرالمزاج علمی شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپ نے اپنے والد کی علمی و روحانی وراثت کو بڑی دیانت اور وقار کے ساتھ محفوظ رکھا، آپ علمی و ادبی ذوق کے بھی حامل تھے، آپ کی ایک درجن سے زائد تصانیف میں امن و شانتی (۲۰۰۹ء) اور مضامینِ قادری (۲۰۱۰ء) کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی، جبکہ متعدد غیر مطبوعہ تصانیف آج بھی کتب خانۂ قادریہ بشیریہ میں محفوظ ہیں، آپ کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول، فکری پختگی اور فنی لطافت کا عمدہ نمونہ ہے۔
۲۵ جمادی الاوّل ۱۴۳۶ھ، مطابق ۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء کو آپ وصال فرما گئے، آپ کا مزار درگاہ قادریہ، شاہ جہاں پور میں خانوادۂ قادریہ کے دیگر اکابرین کے پہلو میں مرجعِ عقیدت ہے، آپ کی حیاتِ مبارکہ علم، تصوف، عشقِ رسول اور خدمتِ انسانیت کا روشن باب ہے، جس کے اثرات آج بھی اہلِ علم و محبت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔