ماہر بلگرامی کا تعارف
ماہر بلگرامی 2 دسمبر 1922ء کو بلگرام کے محلہ سلکنٹھ میں پیدا ہوئے، ان کے والد شنکر سہائے جوہر بلگرامی بلند پایہ شاعر تھے، چنانچہ گھر کا علمی و ادبی ماحول ابتدا ہی سے ان کی طبیعت کو شعر و سخن کی طرف مائل کرتا رہا، مولانا علی حسین سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور آگے چل کر غزل و نظم کے ساتھ نعت گوئی میں بھی اپنی شعری صلاحیتوں کا اظہار کیا، ان کے شعری مجموعوں میں نوائے سوز و ساز، خندۂ گل، صبحِ چمن، شامِ قفس، ایک اور ایک گیارہ اور سامانِ سرخوشی شامل ہیں، نوائے سوز و ساز اور سامانِ سرخوشی کے سوا ان کی تمام تصانیف کو اتر پردیش سرکار کے محکمۂ تعلیم اور اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا، شاعری کے ساتھ وہ پیشۂ وکالت سے بھی وابستہ رہے اور 2005ء میں وفات پائی۔