محشر بدایونی کا تعارف
تخلص : 'محشر'
اصلی نام : فاروق احمد
پیدائش : 04 May 1922 | بدایوں, اتر پردیش
وفات : 09 Nov 1994 | سندھ, پاکستان
رشتہ داروں : منور بدایونی (بھائی)
فاروق احمد ولد حسین احمد، محلہ سوتھا، بدایوں کے ساکن اور خاندانِ متولیان کے معزز فرد تھے، آپ کی ولادت مئی 1922ء میں اپنے آبائی مکان میں ہوئی، کم سنی ہی سے آپ کو شعر و ادب سے گہری دل چسپی پیدا ہوگئی اور تقریباً پندرہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کر دیا، گھر کا ماحول سراسر ادبی و شعری تھا، آپ کے پھوپھا محشر بدایونی کے دولت کدے پر ہمہ وقت شعرا و ادبا کی محفلیں منعقد ہوتی رہتی تھیں، جن میں شرکت نے آپ کے ذوقِ سخن کو جلا بخشی، علاوہ ازیں خاندانی بزرگ نظامی بدایونی کی صحبتوں نے بھی آپ کے شوقِ علم و ادب کو مہمیز دی اور آپ کی فکری و تخلیقی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا، 1949ء میں آپ کراچی منتقل ہوئے اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان کے رسالہ آہنگ کے مدیر مقرر ہوئے، آپ کو زیارتِ بیت اللہ کا شرف بھی حاصل ہوا اور اس روحانی تجربے کے زیرِ اثر آپ نے نعتیہ کلام کی صورت میں عقیدت کے نذرانے پیش کیے، آپ کا انتقال 9 نومبر 1994ء کو ہوا اور کراچی ہی میں مدفون ہوئے، آپ نے شعر و سخن کا ایک وقیع ذخیرہ یادگار چھوڑا، جس میں شہرِ نو (1964ء)، غزل دریا (1978ء)، گردشِ کوزہ (1984ء)، چراغِ میرے ہم نوا (1989ء)، فصلِ فردا (1991ء) اور کلیاتِ محشر (1994ء) شامل ہیں، علاوہ ازیں آپ کے نعتیہ کلام کا مجموعہ حرفِ ثنا 1986ء میں شائع ہوا جو آپ کے مذہبی و روحانی ذوق کی عمدہ نمائندگی کرتا ہے۔