Font by Mehr Nastaliq Web
Makhdoom Hussain Balkhi's Photo'

مخدوم حسین بلخی

- 1440 | بہار شریف, بھارت

سلسلۂ فردوسیہ کے نامور صوفی، محدث اور حضرت مخدوم یحییٰ منیری کے جانشیں تھے جنہوں نے بہار شریف کو علم و تصوف کا مرکز بنایا۔

سلسلۂ فردوسیہ کے نامور صوفی، محدث اور حضرت مخدوم یحییٰ منیری کے جانشیں تھے جنہوں نے بہار شریف کو علم و تصوف کا مرکز بنایا۔

مخدوم حسین بلخی کا تعارف

تخلص : 'حسین'

اصلی نام : حسین بلخی

پیدائش :جون پور, اتر پردیش

وفات : بہار شریف, بہار, بھارت

رشتہ داروں : احمد بلخی لنگر دریا (بیٹا), مظفر بلخی (مرشد)

مخدوم حسین بلخی نوشۂ توحید برصغیر کے نامور صوفی، محدث، عارفِ کامل اور سلسلۂ فردوسیہ کے عظیم پیشوا تھے، آپ کی ولادت ظفرآباد، جون پور میں ایک علمی و سادات گھرانے میں ہوئی اور آپ کا نسب حضرت امام حسین سے جا ملتا ہے، آپ نے علمِ حدیث کی تحصیل اپنے چچا حضرت مظفر بلخی سے کی اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی سند حاصل کی، جس کے باعث آپ اپنے عہد کے ممتاز محدثین میں شمار ہوئے، آپ حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے مرید اور ان کی خانقاہ کے دوسرے سجادہ نشیں تھے، آپ کو حضرت مظفر بلخی سے خلافت حاصل ہوئی اور آپ نے سلسلۂ فردوسیہ کی تعلیمات کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا، آپ کی علمی و روحانی خدمات کے نتیجے میں بہار شریف علم، عرفان اور تصوف کا ایک اہم مرکز بن گیا، آپ نے تصوف، توحید، شریعت، طریقت، ذکر، اخلاق اور سلوک کے موضوعات پر متعدد اہم کتابیں اور رسائل تصنیف کیے، جن میں جواہر السلوک، اخص الخواص، حضراتِ خمس، گنجِ لایخفیٰ، اخلاقِ نبوی و محاسنِ مصطفوی، دیوان اور مکتوبات خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، آپ کا مرتب کردہ درود شریف بھی اہلِ محبت میں نہایت مقبول ہے، آپ کے ممتاز خلفا میں مخدوم حسن دائم جشن بلخی، شیخ سلیمان بلخی، شیخ سیف الدین بلخی اور شیخ قطب الدین بینائے دل جونپوری شامل ہیں، جنہوں نے آپ کے فیوض و برکات کو آگے بڑھایا، 24 ذی الحجہ 844ھ کو آپ کا وصال ہوا، آپ کا مزار بہار شریف، نالندہ میں واقع ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے