مخدوم سعدالدین خیرآبادی کا تعارف
مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی (814ھ–922ھ) نویں اور دسویں صدی ہجری کے جلیل القدر چشتی صوفی، عالمِ دین اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے، آپ کا اصل نام سعدالدین تھا، جبکہ ’’شیخ کبیر‘‘ اور ’’بڑے مخدوم صاحب‘‘ کے القاب سے شہرت پائی، آپ ایک علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے بعد مختلف علومِ ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کیا، آپ نے حضرت مولانا اعظم ثانی اور قاضی مسیح جیسے اکابر علما سے استفادہ کیا، آپ حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی کے مرید و خلیفہ تھے اور تقریباً بیس برس تک ان کی خدمت و صحبت میں رہ کر سلوک و معرفت کی منازل طے کیں، مرشد کے وصال کے بعد خواب میں ملنے والے حکم کے مطابق خیرآباد تشریف لے گئے، جہاں بتیس برس تک دعوت و ارشاد، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ خلق کے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کی روحانی عظمت کے باعث خیرآباد ایک اہم علمی و روحانی مرکز بن گیا، آپ کی مشہور تصنیف ’’مجمع السلوک والفوائد‘‘ علمِ تصوف کی ایک اہم کتاب ہے جو ’’رسالہ مکیہ‘‘ کی شرح ہے، آپ کے بے شمار مریدین اور 29 معروف خلفا تھے، جنہوں نے برصغیر میں چشتی تعلیمات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، مخدوم سعد نے 108 برس کی عمر میں 16 ربیع الاول 922ھ/1516ء کو وصال فرمایا۔