Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

مذاق بدایونی

1819 - 1894 | بدایوں, بھارت

سلسلۂ مذاقیہ کے بانی اور نعتیہ تصوف کے نمائندہ شاعر۔

سلسلۂ مذاقیہ کے بانی اور نعتیہ تصوف کے نمائندہ شاعر۔

مذاق بدایونی کا تعارف

محمد دلدار علی عرفِ عام میں مذاق میاں بن حافظ نثار علی، بدایوں کے محلہ قاضی ٹولہ کے ایک عالی مرتبت بزرگ، صوفی منش انسان اور قادرالکلام شاعر تھے، آپ کی ولادت 12 ربیع الاول 1235ھ مطابق 29 دسمبر 1819ء کو بدایوں میں ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے نانا مولوی سید عبدالعلی نقوی سے حاصل کی، جہاں عربی و فارسی علوم میں مہارت پیدا کی، بعد ازاں رامپور جا کر ملا محمد غفران آخوند سے فقہ و حدیث سمیت جملہ دینی علوم کی تکمیل کی، اس کے علاوہ آپ نے لکھنؤ اور دہلی کے علمی مراکز کا بھی سفر کیا اور وہاں کے ممتاز علما سے استفادہ کیا، روحانی اعتبار سے مذاق میاں ایک صاحبِ حال صوفی تھے، آپ نے سلسلۂ قادریہ میں حضرت شاہ فضل غوث ساقی بریلوی سے اور سلسلۂ چشتیہ و نظامیہ میں حضرت شاہ عبدالرحیم شاہجہانپوری سے بیعت و ارادت حاصل کی، بعد ازاں بدایوں میں آپ نے سلسلۂ مذاقیہ کی بنیاد رکھی اور بے شمار افراد کو راہِ ہدایت سے روشناس کرایا، آپ کے مریدین و خلفا کی ایک بڑی جماعت شہر اور بیرونِ شہر موجود رہی، شاعری کا ذوق آپ کو کم سنی ہی میں حاصل ہوگیا تھا، ابتدا میں آپ نے عیار اور دلدار تخلص اختیار کیے اور اشرف علی نفیسی بدایونی سے اصلاح لی، بعد ازاں دہلی جا کر شیخ ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوئے اور مذاق تخلص اختیار کیا، بعض تذکرہ نگاروں نے انہیں نواب ظہورالحق خاں نوا (تلمیذِ بقا) کا شاگرد بھی قرار دیا ہے، ابتدائی دور میں آپ کا کلام عاشقانہ مضامین پر مشتمل تھا، تاہم وصال سے تقریباً تیس برس قبل آپ نے اس طرز کو ترک کر دیا اور مکمل طور پر نعت و منقبت کی طرف متوجہ ہوگئے، اس کے بعد آپ کا سارا شعری سرمایۂ تصوف، عشقِ رسول اور روحانی مضامین کا آئینہ دار بن گیا، مذاق میاں نے 11 اکتوبر 1894ء کو وصال فرمایا، آپ کی حیات علم، تصوف اور شاعری کا ایک درخشاں سنگم تھی جو آج بھی اہلِ ذوق کے لیے باعثِ رہنمائی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے